کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حالتِ احرام میں حمام میں داخل ہونے اور سر اور جسم کو کھجلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9136
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ دَخَلَ حَمَّامًا وَهُوَ بِالْجُحْفَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَقَالَ: مَا يَعْبَأُ اللهُ بِأَوْسَاخِنَا شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ جحفہ میں حمام میں داخل ہوئے جب کہ وہ محرم تھے اور فرمایا: اللہ ہماری میل کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 9137
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: الْمُحْرِمُ يَشُمُّ الرَّيْحَانَ، وَيَدْخُلُ الْحَمَّامَ، وَيَنْزِعُ ضِرْسَهُ وَيَفْقَأُ الْقُرْحَةَ، وَإِذَا انْكَسَرَ ظُفْرُهُ أَمَاطَ عَنْهُ الْأَذَى.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ محرم خوشبو سونگھ سکتا ہے، حمام میں داخل ہو سکتا ہے، داڑھ نکلوا سکتا ہے اور زخم کو صحیح کر سکتا ہے اور جب اس کا ناخن ٹوٹ جائے تو وہ اس سے تکلیف دہ چیز کو دور کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 9138
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي يَحْيَى أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِّ أَمَرَ بِوَسَخٍ فِي ظَهْرِهِ فَحُكَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ میں موجود میل کے بارے میں حکم دیا، اسے ملا گیا جبکہ وہ محرم تھے۔
حدیث نمبر: 9139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ فِي حَكِّ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ قَالَ: بِبَطْنِ أَنَامِلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما محرم کے سر کھجانے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اپنے پوروں کی اندرونی جانب سے سر کھجائے۔
حدیث نمبر: 9140
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ، ثنا خَلَفٌ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَحُكُّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَفَطِنْتُ لَهُ، فَإِذَا هُوَ يَحُكُّ بِأَطْرَافِ أَنَامِلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابومجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حالتِ احرام میں اپنا سر کھجلاتے ہوئے دیکھا، غور کیا تو وہ اپنی انگلیوں کے پوروں کے اطراف سے کھرچ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 9141
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْأَلُ عَنِ الْمُحْرِمِ أَيَحُكُّ جَسَدَهُ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَلْيَحُكَّ وَلْيَشْدُدْ وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَوْ رَبَطْتُ يَدِيَّ وَلَمْ أَجِدْ إِلَّا أَنْ أَحُكَّ بِرِجْلِي لَحَكَكْتُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: کیا محرم اپنے جسم پر خارش کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! خوب خارش کرے اور فرماتی ہیں کہ اگر میرے ہاتھ بندھ جائیں اور پاؤں کے علاوہ اور کچھ خارش کرنے کو نہ ہو تو میں پاؤں سے بھی کروں گی۔