کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: احرام کے بعد غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9132
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ " وَقَالَ الْمِسْوَرُ: " لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ "، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يُسْتَرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: " مَنْ هَذَا؟ " فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ لِيَسْأَلَكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: " اصْبُبْ " فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ كِلَاهُمَا عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے مقامِ ابواء میں اختلاف کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں دھو سکتا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، میں نے انھیں کپڑے کی اوٹ میں غسل کرتے ہوئے پایا، میں نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس یہ پوچھنے بھیجا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حالتِ احرام میں کیسے سر دھوتے تھے؟ تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اس کو جھکایا حتیٰ کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر اس شخص کو جو ان پر پانی بہا رہا تھا کہا کہ پانی ڈال، اس نے سر پر پانی ڈالا، پھر انھوں نے اپنے سر کو اپنے ہاتھوں سے ہلایا، دونوں کو آگے لے گئے، پھر واپس لائے اور کہا: ”میں نے اسی طرح آپ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9132
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1743۔ مسلم 1205»
حدیث نمبر: 9133
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ إِلَى بَعِيرٍ، وَأَنَا أَسْتَرُ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ إِذْ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا يَعْلَى اصْبُبْ عَلَى رَأْسِي " فَقُلْتُ: أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَعْلَمُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَاللهِ مَا يَزِيدُ الْمَاءُ الشَّعْرَ إِلَّا شَعَثًا " فَسَمَّى اللهَ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک اونٹ کی اوٹ میں غسل فرما رہے تھے اور دوسری جانب میں نے کپڑے سے اوٹ کی ہوئی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے سر پر پانی ڈال اے یعلی! تو میں نے کہا: امیر المومنین زیادہ جانتے ہیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! پانی بالوں کو پراگندگی میں ہی زیادہ کرتا ہے، تو انہوں نے اللہ کا نام لے کر اپنے سر پر پانی ڈالا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9133
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ شافعي 535»
حدیث نمبر: 9134
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رُبَّمَا قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَعَالَ " أُبَاقِيكَ فِي الْمَاءِ أَيُّنَا أَطْوَلُ نَفَسًا، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کبھی کبھار سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھے فرماتے: آؤ پانی میں غوطہ لگائیں تاکہ پتہ چلے ہم میں سے کس کا سانس لمبا ہے، جبکہ ہم محرم ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9134
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ شافعي 536»
حدیث نمبر: 9135
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ وَقَعَا فِي الْبَحْرِ يَتَمَاقَلَانِ يُغَيِّبُ أَحَدُهُمَا رَأْسَ صَاحِبِهِ وَعُمَرُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمَا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عاصم بن عمر اور عبدالرحمن بن زید دونوں نے دریا میں چھلانگ لگائی اور وہ غوطہ خوری کر رہے تھے، وہ ایک دوسرے کا سر ڈبوتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں دیکھ رہے تھے تو انہوں نے اس کو برا نہ جانا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9135
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»