کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت اپنے احرام سے پہلے خضاب لگائے اور خوشبو سے کنگھی کرے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ الدَّامِغَانِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: كُنَّا نَخْرُجُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَنُضَمِّدُ جِبَاهَنَا بِالسُّكِّ الْمُطَيَّبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ، فَإِذَا عَرِقَتْ إِحْدَانَا سَالَ عَلَى وَجْهِهَا، فَيَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْهَانَا.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے تو ہم اپنے ماتھے پر احرام کے وقت خوشبودار لیپ لگاتیں، تو جب ہم میں سے کسی کو پسینہ آتا تو وہ اس کے چہرے پر بہہ جاتا، نبی ﷺ اس کو دیکھتے لیکن منع نہ فرماتے۔
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَمْسَحَ الْمَرْأَةُ يَدَيْهَا عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِشَيْءٍ مِنَ الْحِنَّاءِ، وَلَا تُحْرِمَ وَهِيَ غُفْلٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَذَلِكَ أُحِبُّ لَهَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُدَلَّكَ الْمَرْأَةُ بِشَيْءٍ مِنَ الْحِنَّاءِ عَشِيَّةَ الْإِحْرَامِ وَتُغَلِّفَ رَأْسَهَا بِغَسْلَةٍ لَيْسَ فِيهَا طِيبٌ، وَلَا تُحْرِمَ عُطْلًا وَلَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عبیدہ اور عبداللہ بن دینار رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ عورت احرام کے وقت اپنے ہاتھوں پر مہندی لگا لے اور وہ سفید ہاتھوں کے ساتھ محرمہ نہ بنے۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ موسیٰ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”سنت یہ ہے کہ عورت احرام کی رات کچھ مہندی لگا لے اور اپنا سر بغیر خوشبو والی چیز سے دھو لے اور یونہی احرام نہ باندھے۔“ لیکن یہ بات محفوظ نہیں ہے۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ موسیٰ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ”سنت یہ ہے کہ عورت احرام کی رات کچھ مہندی لگا لے اور اپنا سر بغیر خوشبو والی چیز سے دھو لے اور یونہی احرام نہ باندھے۔“ لیکن یہ بات محفوظ نہیں ہے۔