السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحرمة تلبس الثوب من علو فيستر وجهها وتجافي عنه باب: محرم عورت اوپر کی طرف سے کپڑا اوڑھے جو اس کا چہرہ چھپا لے اور اسے اپنے چہرے سے دور رکھے۔
حدیث نمبر: 9051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا جَازُوا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَخَالَفَهُمُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ، عَنْ يَزِيدَ فَقَالَ: عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے جب کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حالت احرام میں تھیں، تو جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی اوڑھنی اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکا لیتی اور جب وہ گزر جاتے تو ہم چہرہ کھول لیتیں۔