کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جس شخص نے کسی عبادت (نسک) کا احرام باندھا پھر اسے ختم کرنا چاہا تو وہ ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی دوسری عبادت کی طرف پھرے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَوْ لِمَنْ أَتَى؟ قَالَ: " بَلْ هِيَ لَنَا خَاصَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
بلال بن حارث اپنے والد حارث رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حج کو فسخ کرنا ہمارے لیے ہی خاص ہے یا بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمارے لیے خاص ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9004
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداود 1808۔ نسائي 2808»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُرَقَّعُ الْأُسَيِّدِيُّ وَكَانَ رَجُلًا مَرْضِيًّا أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَنَا "، يَعْنِي فَسْخَ الْحَجَّ بِالْعُمْرَةِ قَالَ يَحْيَى: وَحَقَّقَ ذَلِكَ عِنْدَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَمْ يَنْقُضُوا ⦗٦٤⦘ الْحَجَّ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ يُرَخِّصُوا فِيهِ لِأَحَدٍ، وَكَانُوا هُمْ أَعْلَمَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا فَعَلَ فِي حَجِّهِ ذَلِكَ مِمَّنْ شَهِدَ بَعْضَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ رخصت صرف ہمارے لیے ہی تھی، ہمارے بعد کسی کے لیے بھی نہیں ہے، یعنی حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا۔
یحییٰ کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ثابت شدہ بات یہی ہے کہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے حج کو عمرہ کے ساتھ نہیں بدلا اور نہ ہی انہوں نے اس بات کی کسی کو رخصت دی اور وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے حج کے افعال کو زیادہ جاننے والے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9005
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ حميدي 132»