السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من أحرم بنسك فأراد أن يفسخه لم ينفسخ ولم ينصرف إلى غيره باب: جس شخص نے کسی عبادت (نسک) کا احرام باندھا پھر اسے ختم کرنا چاہا تو وہ ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی دوسری عبادت کی طرف پھرے گا۔
حدیث نمبر: 9005
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُرَقَّعُ الْأُسَيِّدِيُّ وَكَانَ رَجُلًا مَرْضِيًّا أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ رُخْصَةً لَنَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَنَا "، يَعْنِي فَسْخَ الْحَجَّ بِالْعُمْرَةِ قَالَ يَحْيَى: وَحَقَّقَ ذَلِكَ عِنْدَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَمْ يَنْقُضُوا ⦗٦٤⦘ الْحَجَّ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ يُرَخِّصُوا فِيهِ لِأَحَدٍ، وَكَانُوا هُمْ أَعْلَمَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِمَا فَعَلَ فِي حَجِّهِ ذَلِكَ مِمَّنْ شَهِدَ بَعْضَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ رخصت صرف ہمارے لیے ہی تھی، ہمارے بعد کسی کے لیے بھی نہیں ہے، یعنی حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا۔
یحییٰ کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ثابت شدہ بات یہی ہے کہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے حج کو عمرہ کے ساتھ نہیں بدلا اور نہ ہی انہوں نے اس بات کی کسی کو رخصت دی اور وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے حج کے افعال کو زیادہ جاننے والے تھے۔