السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من أحرم بنسك فأراد أن يفسخه لم ينفسخ ولم ينصرف إلى غيره باب: جس شخص نے کسی عبادت (نسک) کا احرام باندھا پھر اسے ختم کرنا چاہا تو وہ ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی دوسری عبادت کی طرف پھرے گا۔
حدیث نمبر: 9004
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَوْ لِمَنْ أَتَى؟ قَالَ: " بَلْ هِيَ لَنَا خَاصَّةً ".حافظ ثناء اللہ
بلال بن حارث اپنے والد حارث رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حج کو فسخ کرنا ہمارے لیے ہی خاص ہے یا بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمارے لیے خاص ہے۔“