کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حج سے پہلے عمرہ اور عمرے سے پہلے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ، سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْعُمْرَةِ، قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ عِكْرِمَةُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن خالد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کسی پر کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ حج سے پہلے عمرہ کر لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8784
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 684»
حدیث نمبر: 8785
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " "، وَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " " دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي شَعْرَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِحَجٍّ " " حَتَّى إِذَا صَدَرَتْ وَقَضَى اللهُ حَجَّهَا أَرْسَلَ مَعَهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ فَأَرْدَفَهَا وَأَهَلَّتْ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَقَضَى الله عُمْرَتَهَا وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ. قَوْلُهُ فَقَضَى الله عُمْرَتَهَا مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ وَإِنَّمَا لَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَدْ أَهْدَى عَنْهَا وَعَمَّنِ اعْتَمَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ⦗٥٧٩⦘ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ بِحَجٍّ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى الْأَوَّلِ وَأَضَافَ كَلَامَ عُرْوَةَ إِلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم ذوالحجہ کے چاند کے قریب نکلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ کہنا چاہتا ہے وہ کہہ لے۔ اگر میں قربانی ساتھ لے کر نہ آیا ہوتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ کہتا“ اور قوم میں کچھ عمرہ کا تلبیہ کہنے والے تھے، کچھ حج کا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، میں حیض کی حالت میں مکہ پہنچی اور عرفہ کا دن ہو گیا تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے عمرہ کو رہنے دے، بال کھول لے، کنگھی کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ“، حتیٰ کہ جب وہ واپس آئیں اور حج کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا حصبہ والی رات۔ انہوں نے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا پھر انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا تلبیہ کہا اپنے پہلے عمرہ کی جگہ اور اس دوران قربانی یا روزہ یا صدقہ کچھ بھی نہیں تھا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت نکلے جب ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی حج کا تلبیہ پکارنا پسند کرے تو وہ حج کا تلبیہ پکارے اور جو کوئی عمرہ کا تلبیہ پکارنا پسند کرے تو وہ عمرہ کا تلبیہ پکارے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8785
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1691۔ مسلم 1211»
حدیث نمبر: 8786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ: أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ فَبَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصِحُّ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا فَقَالَتْ: نَعَمْ وَأَشْفَيْكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعمران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اپنے موالی کے ساتھ حج کیا تو میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: کیا میں حج سے پہلے عمرہ کر لوں؟ تو انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو کر لو اور اگر چاہو تو حج کے بعد عمرہ کر لینا، تو میں نے کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ جس نے حج نہ کیا ہو اس کے لیے صبح سے پہلے عمرہ کرنا جائز نہیں ہے، پھر میں نے امہات المومنین رضی اللہ عنہن سے پوچھا، انہوں نے بھی وہی بات کہی جو انہوں نے کہی تھی، میں ان کے پاس آیا اور انہیں خبر دی تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے آلِ محمد! حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ کہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8786
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن حبان3920۔ احمد6/298»