حدیث نمبر: 8775
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ وَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ کہا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہے اور حلال نہ ہو حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوجائے۔“
حدیث نمبر: 8776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، قَالَ وَأنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ إِسْحَاقُ أنبأ وَقَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"" قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟ فَقَالَ: "" انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْشِطِي وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"" فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، وَإِنَّمَا أَمَرَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ ⦗٥٧٦⦘ عَنْهَا بِذَلِكَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا هَدْيٌ خَوْفًا مِنْ فَوَاتِ حَجَّتِهَا ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ، وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ يَقْطَعُ بِكَوْنِهَا قَارِنَةً وَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال نبی ﷺ کے ساتھ نکلے تو میں نے عمرہ کا تلبیہ کہا اور میں قربانی نہیں لے کر آئی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے وہ عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ بھی کہے اور پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک وہ دونوں سے فارغ نہیں ہوجاتا۔“ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی تو جب عرفہ کی رات آئی میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے تو عمرہ کا تلبیہ کہا تھا، اب میں حج کا کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دے اور کنگھی کرلے اور عمرہ سے رک جا اور حج کا تلبیہ کہہ۔“ تو جب میں نے حج کرلیا تو عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا، انہوں نے مجھے اس عمرے کے بدلے جس سے میں روک دی گئی تھی تنعیم سے عمرہ کروایا۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ پکارنے کا حکم انہیں دیا جن کے پاس قربانی تھی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حج کا حکم دیا، کیونکہ ان کے پاس قربانی نہیں تھی اس ڈر سے کہ کہیں ان کا حج فوت نہ ہوجائے، پھر آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔
(ب) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے حج کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ پکارنے کا حکم انہیں دیا جن کے پاس قربانی تھی، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حج کا حکم دیا، کیونکہ ان کے پاس قربانی نہیں تھی اس ڈر سے کہ کہیں ان کا حج فوت نہ ہوجائے، پھر آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔
حدیث نمبر: 8777
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ ذَبَحَ، وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَهْدَى عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ. وَقَالَتْ عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے قربان کی۔
حدیث نمبر: 8778
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً كَانَتْ عَمْرَةُ تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ عَائِشَةَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ الْبَقَرَ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهَ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آلِ محمد ﷺ کی طرف سے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک ہی گائے قربان کی۔
حدیث نمبر: 8779
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج میں اپنی بیویوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔
حدیث نمبر: 8780
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنِ اعْتَمَرَ مِنْ نِسَائِهِ بَقَرَةً بَيْنَهُنَّ ⦗٥٧٧⦘ تَفَرَّدَ بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ سَمَاعَهُ فِيهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ كَانَ يَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ السَّفَرِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کی طرف سے جنہوں نے عمرہ کیا تھا ایک گائے ذبح کی۔
حدیث نمبر: 8781
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ بِمِصْرَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فَذَكَرَهُ وَقَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَإِنْ كَانَ قَوْلُهُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ مَحْفُوظًا صَارَ الْحَدِيثُ جَيِّدًا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 8782
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَحَمْدَانُ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْر، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِيدُ الْحَجَّ زَمَنَ نَزَلِ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: " {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] إِذَنْ أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً "، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ " قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي " وَأُهْدِي هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ وَحَلَقَ ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس زمانے میں حج کے لیے نکلے جب حجاج، ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ پہنچا ہوا تھا تو ان کو کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو روک دیں گے تو فرمانے لگے: تمہارے لیے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] (رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے)، میں ویسے ہی کروں گا، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر نکلے حتیٰ کہ بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے: حج و عمرہ کا معاملہ تو ایک سا ہی ہے، میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ بھی واجب کر لیا ہے اور انہوں نے قدید سے ایک قربانی بھی خرید لی اور آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ میں پہنچے۔ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور مزید کچھ نہ کیا، قربانی نہ کی، نہ ہی سر منڈوایا اور نہ ہی بال کٹوائے اور کسی چیز سے حلال نہیں ہوئے جو ان پر حرام تھی حتیٰ کہ جب یومِ نحر آیا تو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر دیکھا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ساتھ حج و عمرہ کا طواف مکمل کر لیا ہے، پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حدیث نمبر: 8783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِي يُقَالُ لَهُ هُذَيْمُ بْنُ ثُرْمُلَةَ فَقُلْتُ: يَا هَنَاهُ إِنِّي حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَكَيْفَ لِي بِأَنْ أَجْمَعَهُمَا؟ فَقَالَ: اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا مَعًا فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ ذَلِكَ، فَكَأَنَّمَا أُلْقِيَ عَلَيَّ جَبَلٌ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا وَإِنِّي أَسْلَمْتُ وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ فَأَتَيْتُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي فَقَالَ اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَإِنِّي أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سبی بن معبد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بدوی نصرانی آدمی تھا، جب میں مسلمان ہوا تو اپنے قبیلہ کے ایک آدمی کے پاس آیا جس کا نام ثرملہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ مجھے جہاد کا شوق ہے اور مجھ پر حج و عمرہ بھی فرض ہے تو کیوں نہ میں دونوں کو جمع کر لوں؟ تو اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لے اور جو قربانی تجھے میسر آتی ہے وہ کر لے، چنانچہ میں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا، اور جب میں (عذیب) مقام پر پہنچا تو مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما ملے اور میں حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہہ رہا تھا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ”یہ تو اپنے اس اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے“، تو گویا مجھ پر پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ حتیٰ کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے عرض کی: اے امیر المؤمنین! میں ایک دیہاتی نصرانی آدمی تھا، پھر مسلمان ہو گیا ہوں اور میں جہاد کا شوقین ہوں اور حج و عمرہ کو میں نے اپنے آپ پر فرض پایا ہے تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس گیا تو اس نے مجھے کہا کہ دونوں کو جمع کر لے اور جو قربانی میسر آئے اسے ذبح کر لینا، اور میں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں تمہارے نبی ﷺ کی سنت کی ہدایت دے دی گئی ہے“۔