کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حجِ تمتع کرنے والا (جو عمرہ کر کے حج تک متمتع ہو) جب مکہ میں قیام کرے تو اگر چاہے وہیں مکہ سے حج کا آغاز کرے، نہ کہ میقات سے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا " قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ وہ نبی ﷺ کے حج کے بارے میں بیان کر رہے تھے کہ ہمیں نبی ﷺ نے طواف کرنے کے بعد حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور فرمایا: ”جب تم منیٰ جانے کا ارادہ کرو تو تلبیہ کہنا شروع کر دو۔“ پس ہم نے بطحا سے تلبیہ کا آغاز کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ مُوسَى بْنُ نَافِعٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا مُتَمَتِّعٌ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ لِي أُنَاسٌ مِنْ أَهَلِ مَكَّةَ تَصِيرُ الْآنَ حَجَّتُكَ مَكِّيَّةً، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَسْتَفْتِيهِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ الْبُدْنَ وَقَدْ أَهَلَّوْا بِالْحَجِّ مُفْرِدًا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَقْصِرُوا وَأَنْتُمْ حَلَالٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدَّمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً " قَالُوا: كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ؟ فَقَالَ: " افْعَلُوا مَا أَمَرْتُكُمْ فَلَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ " فَفَعَلُوا ⦗٥٨٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن نافع اسدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ آیا اور میں حج تمتع کرنے والا تھا، میں یوم ترویہ سے تین دن پہلے مکہ داخل ہوا تو مجھے لوگوں نے کہا: اب تیرا حج مکی بن جائے گا، تو میں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے گیا تو انہوں نے کہا: مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا جب وہ قربانیاں ساتھ لے کر گئے اور انہوں نے اکیلے حج کا تلبیہ کہا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کر کے احرام کھول دو اور سر منڈوا لو تم حلال ہو۔ جب ترویہ کا دن آئے تو حج کا تلبیہ کہہ اور اس کو حج تمتع بنا لو۔“ کہنے لگے کہ ہم اس کو تمتع کیسے بنا لیں جب کہ ہم نے تو حج کا نام لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں کہا گیا ہے، وہ کرو! اگر میں قربانی ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسا میں تمہیں کہہ رہا ہوں، لیکن میں احرام اس وقت تک نہیں کھول سکتا جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ لگ جائے“ تو انہوں نے ایسا ہی کر لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي تَفْعَلُونَ " قَالَ: فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ وَفَعَلْنَا مِثْلَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَقَالَ أَهْلَلْنَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج سے چار دن پہلے مکہ پہنچے تو ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو عمرہ بنا لیں، تو یہ بات ہمارے دلوں کو تنگ لگی اور گراں گزری، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! حلال ہو جاؤ، اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جو تم کرتے۔“ وہ کہتے ہیں کہ پھر ہم حلال ہو گئے حتیٰ کہ ہم نے عورتوں سے جماع بھی کیا اور وہ سب کچھ کیا جو ایک حلال آدمی کرتا ہے، حتیٰ کہ جب ترویہ کی رات آئی اور ہم نے مکہ کو پیچھے چھوڑا تو ہم نے حج کا تلبیہ کہا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَتَّعُونَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ فَإِذَا لَمْ يَحُجُّوا عَامَهُمْ ذَلِكَ لَمْ يَهْدُوا شَيْئًا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم حج کے مہینوں میں تمتع کرتے تھے اور سال حج نہ کیا تو کچھ بھی قربانی نہ کی۔