أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ الْحَدِيثَ لَعَلَّ اللهَ تَعَالَى يَنْفَعُكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ يَنْسَخُهُ رَأَيُ رَجُلٍ بَعْدَمَا شَاءَ أَنْ يَرَى. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ وَزَادَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مطرف کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تجھے ایک حدیث سناتا ہوں، شاید کہ اللہ تعالیٰ اس دن کے بعد تجھے اس حدیث سے فائدہ پہنچائے اور جان لے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعض اہل کو عشرہ ذوالحجہ میں عمرہ کروایا اور اس کو منسوخ کرنے کے لیے قرآن نازل نہیں ہوا، اب جس کی مرضی جو رائے قائم کرلے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وَاللهِ مَا أعْمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهَلِ الشِّرْكِ فَإِنَّ هَذَا الْحِيُّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا عَفَا الْوَبَرْ، وَبَرَأَ الدَّبَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ. وَكَانُوا يُحْرِمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةَ وَالْمُحَرَّمُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صرف اس لیے ذوالحجہ میں عمرہ کروایا تھا تاکہ مشرکین کی بات کو ختم کر سکیں، کیونکہ یہ قریشی اور ان کے ہم نوا کہا کرتے تھے: جب زخم ختم ہو جائیں اور نشانات چلے جائیں اور صفر کا مہینہ شروع ہو جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو جاتا ہے، تو گویا وہ ذوالحجہ اور محرم کے گزر جانے تک عمرہ کو حرام قرار دیتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو سَلَمَةَ، ثنا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ يَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَانْسَلَخَ صَفَرُ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوُهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ " الْحِلُّ كُلُّهُ " يَعْنِي يَحِلُّونَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ وُهَيْبٍ وَبَيَّنَ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِذَلِكَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے ارض پر بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ جب اونٹوں کی پشت کے زخم صحیح ہو جائیں اور نشانات مٹ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو پھر عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو گا۔ وہ محرم کو صفر کہتے تھے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ ”اس کو عمرہ بنا لیں“، یہ بات ان پر گراں گزری۔ انہوں نے کہا کہ عمرہ کے بعد کیسے حلال ہوں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر طرح سے حلال، یعنی ہر چیز ان کے لیے جو احرام کی وجہ سے ممنوع تھی جائز ہو گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ ⦗٥٦٤⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسيدِيُّ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُرَقَّعٍ الْأُسَيِّدِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ أَنْ يَفْسَخَ حَجَّهُ إِلَى عُمْرَةٍ إِلَّا لِلرَّكْبِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کر لے، یہ صرف اصحابِ محمد ﷺ کے قافلے کے لیے جائز تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ التَّمِيمِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ بَيْنَ الْحِجَّةَ وَالْعُمْرَةِ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ ابْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر نکلے، ہم میں سے کچھ صرف عمرہ کا تلبیہ کہہ رہے تھے اور کچھ حج و عمرہ دونوں کا اور کچھ صرف حج کا اور رسول اللہ ﷺ نے حج کا تلبیہ کہا تو جس نے صرف عمرہ کے لیے تلبیہ کہا وہ حلال ہو گیا، لیکن جس نے صرف حج یا حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا وہ یومِ نحر سے پہلے حلال نہ ہو سکا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فَقَالَ: " لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ الْحَجِّ " قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْحَجِّ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی حج سے پہلے عمرہ کرلے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے حج سے پہلے عمرہ کیا، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابن مبارک اور ابو عاصم کی حدیث کو ابن جریج سے نقل کیا ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے حج سے پہلے عمرہ کیا، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابن مبارک اور ابو عاصم کی حدیث کو ابن جریج سے نقل کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ أَعْتَمِرَ قَبْلَ الْحَجِّ وَأُهْدِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَمِرَ بَعْدَ الْحَجِّ فِي ذِي الْحِجَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر میں حج سے پہلے عمرہ کروں اور قربانی لے کر جاؤں تو یہ میرے لیے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کرنے کی نسبت زیادہ محبوب ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّرَامِيُّ، أنبأ هَدِيَّةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے اور سارے ہی ذی القعدہ میں کیے سوائے اس عمرہ کے جو آپ نے حج کے ساتھ کیا تھا۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ والے سال، دوسرا اس سے اگلے سال ذی القعدہ میں اور تیسرا جعرانہ مقام سے جہاں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٥٦٥⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین عمرے کیے اور تینوں ذی القعدہ میں ہی کیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ عُمْرَةً فِي شَوَّالٍ وَعُمْرَتَيْنِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین عمرے کیے: ایک شوال میں اور دو ذی القعدہ میں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " حَلَّتِ الْعُمْرَةُ فِي السَّنَةِ كُلِّهَا إِلَّا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ: يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَيَوْمَانِ بَعْدَ ذَلِكَ " وَهَذَا مَوْقُوفٌ وَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَنْ كَانَ مُشْتَغِلًا بِالْحَجِّ فَلَا يُدْخِلُ الْعُمْرَةَ عَلَيْهِ وَلَا يَعْتَمِرُ حَتَّى يُكْمِلَ عَمَلَ الْحَجِّ كُلَّهُ، فَقَدْ أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ حِينَ فَاتَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْحَجُّ بِأَنْ يَتَحَلَّلَ بِعَمَلِ عُمْرَةٍ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَعْظَمُ الْأَيَّامِ حُرْمَةً أَوْلَاهَا أَنْ يُنْسَكَ فِيهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: عمرہ سارا سال حلال ہے سوائے چار دنوں کے: (١) یومِ عرفہ (٢) یومِ نحر (٣، ٤) دو دن اس کے بعد۔