حدیث نمبر: 8732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " وَاللهِ مَا أعْمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهَلِ الشِّرْكِ فَإِنَّ هَذَا الْحِيُّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا عَفَا الْوَبَرْ، وَبَرَأَ الدَّبَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ. وَكَانُوا يُحْرِمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةَ وَالْمُحَرَّمُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صرف اس لیے ذوالحجہ میں عمرہ کروایا تھا تاکہ مشرکین کی بات کو ختم کر سکیں، کیونکہ یہ قریشی اور ان کے ہم نوا کہا کرتے تھے: جب زخم ختم ہو جائیں اور نشانات چلے جائیں اور صفر کا مہینہ شروع ہو جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ حلال ہو جاتا ہے، تو گویا وہ ذوالحجہ اور محرم کے گزر جانے تک عمرہ کو حرام قرار دیتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8732
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداود 1987۔ ابن حبان 1987»