کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے ایک سال میں کئی بار عمرہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا سُمَيٌّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سُمَيٍّ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور حجِ مبرور کی جزا صرف جنت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8724
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1683۔ مسلم 8349»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَقْبَلَتْ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ؟ " قَالَتْ: حِضْتُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ ⦗٥٦٢⦘ بِالْبَيْتِ، وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، قَالَ: " فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ " فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا " فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ " وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنِ اللَّيْثِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَتْ عُمْرَتُهَا فِي ذِي الْحِجَّةِ، ثُمَّ سَأَلَتْهُ أَنْ يُعْمِرَهَا فَأَعْمَرَهَا فِي ذِي الْحِجَّةِ وَكَانَتْ هَذِهِ عُمْرَتَانِ فِي شَهْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے تلبیہ کہتی ہوئی آئیں حتیٰ کہ جب سرف مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس گئے تو وہ رو رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کیا بات رلا رہی ہے؟“ کہنے لگیں کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور ابھی میں حلال بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا معاملہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ۔“ تو انھوں نے ایسا ہی کیا اور تمام جگہوں پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ پاک ہوئیں تو کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اب تو حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔“ تو کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے دل میں کچھ بات ہے کہ میں نے حج کرنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا۔“ اور یہ لیلہ حصبہ کی بات ہے (جس رات آپ وادی محصب میں ٹھہرے تھے)
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا پہلا عمرہ ذوالحجہ میں تھا، پھر انھوں نے عمرہ کروانے کا مطالبہ کیا تو آپ ﷺ نے انھیں عمرہ ذوالحجہ ہی میں عمرہ کروایا تو یہ دو عمرے ایک ہی ماہ میں تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8725
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1213۔ نسائي 2763»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَعْتَمِرُ فِي آخِرِ ذِي الْحِجَّةِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَتَعْتَمِرُ فِي رَجَبٍ مِنَ الْمَدِينَةِ وَتُهِلُّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ذوالحجہ کے آخر میں جحفہ سے عمرہ کرتیں اور رجب میں مدینہ سے اور ذوالحلیفہ سے تلبیہ کہنا شروع کرتیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8726
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اعْتَمَرَتْ فِي سَنَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قُلْتُ هَلْ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهَا أَحَدٌ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ سَعْدَانُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ فَسَكَتَ وَانْقَمَعْتُ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُ: مَنْ يَعِيبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ؟.
حافظ ثناء اللہ
قاسم فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک سال میں تین عمرے کیے۔ سفیان ثوری فرماتے ہیں: بھلا ان پر کسی نے عیب لگایا؟ تو وہ فرمانے لگے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ وہ تو ام المؤمنین ہیں، ان پر کون تنقید کر سکتا ہے؟
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فِي كُلِّ شَهْرٍ عُمْرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر مہینے میں عمرہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8728
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مسند شافعي 515»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسٌ هُوَ ابْنُ عِيَاضٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: اعْتَمَرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْوَامًا فِي عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عُمْرَتَيْنِ فِي كُلِّ عَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں کئی سال دو عمرے سالانہ کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8729
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسند شافعي 518»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِمَكَّةَ وَكَانَ إِذَا حَمَّمَ رَأْسَهُ خَرَجَ فَاعْتَمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی نے یہ بات بیان کی کہ ہم مکہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، تو وہ جب بھی سر دھوتے تو نکل کر عمرہ کر لیتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8730
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مسند شافعي 514۔ ابن ابي شيبه 12727»