حدیث نمبر: 8662
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سُخْتَوَيْهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا، وَصَالِحُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرْكَبَنَّ رَجُلٌ بَحْرًا إِلَّا غَازِيًا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ حَاجًّا وَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والے کے علاوہ اور کوئی بھی بحری سفر نہ کرے، یقیناً سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے۔“
حدیث نمبر: 8663
وَقِيلَ فِيهِ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بِشْرِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ مُطَرِّفٍ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: لَا يَرْكَبُ الْبَحْرَ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 8664
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو ⦗٥٤٧⦘ أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ يَعْنِي حَدِيثَ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 8665
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَهَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: مَاءُ الْبَحْرِ لَا يُجْزِئُ مِنْ وُضُوءٍ وَلَا مِنْ جَنَابَةٍ إِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا ثُمَّ مَاءً ثُمَّ نَارًا حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ أَبْحُرٍ وَسَبْعَةَ أَنْيَارٍ. هَكَذَا رُوِيَ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سمندری پانی کے ساتھ وضو یا غسلِ جنابت کرنا جائز نہیں۔ یقیناً سمندر کے نیچے آگ ہے، پھر پانی ہے، پھر آگ ہے، حتیٰ کہ انہوں نے سات سمندر اور سات آگیں شمار کیں۔
حدیث نمبر: 8666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُيَيٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَحْرُ هُوَ جَهَنَّمُ ثُمَّ تَلَا {نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا} [الكهف: ٢٩] " قَالَ يَعْلَى: " وَاللهِ لَا أَدْخُلُهُ أَبَدًا وَاللهِ لَا تُصِيبُنِي مِنْهُ قَطْرَةُ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سمندر ہی جہنم ہے“ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا﴾ [سورة الكهف: 29] ”آگ ہے جس کے شعلے انہیں گھیر لیں گے“۔ یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گا اور نہ ہی اس کا قطرہ مجھے چھوئے گا۔
حدیث نمبر: 8667
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَجَّةٌ لِمَنْ لَمْ يَحُجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ، وَغَزْوَةٌ لِمَنْ قَدْ حَجَّ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ حِجَجٍ وَغَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ وَمَنِ اجْتَازَ الْبَحْرَ فَكَأَنَّمَا اجْتَازَ الْأَوْدِيَةَ كُلَّهَا وَالْمَائِدُ فِيهِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ ". كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے حج نہیں کیا اس کے لیے حج دس غزوات سے بہتر ہے اور جس نے حج کیا ہوا ہے، اس کے لیے غزوہ کرنا دس حجوں سے بہتر ہے اور سمندری جہاد خشکی جہاد سے دس گنا بہتر ہے اور جس نے سمندر کو پار کیا گویا اس نے تمام تر وادیوں کو پار کیا اور اس (سمندر) میں تیرنے والا خون میں لت پت ہونے والے کی طرح ہے۔“
حدیث نمبر: 8668
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنِيُّ، ثنا مَرْوَانُ، ثنا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيُّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ الَّذِي يُصِيبُهُ الْقَيْءُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَالْغَرِقُ لَهُ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سمندری سفر کرنے والے کو اگر قے (الٹی) آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا اجر ہے اور ڈوبنے والے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سمندر میں ایک جنگ خشکی کی دس جنگوں کے برابر ہے، جس نے سمندر پار کر لیا گویا اس نے ساری وادیاں پار کر لیں، کشتی میں سفر کرنے والا خون میں لت پت ہونے والے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 8669
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٤٨⦘ إِسْحَاقَ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ هَادِيَةَ، قَالَ: لَقِيتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ مِنْ أَهْلِ عُمَانَ، قَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا عُمَانُ يَنَضَحُ بِجَانِبِهَا الْبَحْرُ، الْحَجَّةُ مِنْهَا أَفْضَلُ مِنْ حَجَّتَيْنِ مِنْ غَيْرِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بن ہادیہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل عمان سے، فرمایا: اہل عمان سے؟ میں نے کہا: جی! فرمانے لگے کہ کیا میں تجھے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث سناؤں؟ میں نے کہا: ضرور! فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں ایک ایسی زمین کو جانتا ہوں، جسے عمان کہا جاتا ہے، اس کے دونوں جانب سمندر ہے، وہاں سے حج کے لیے آنا دیگر مقامات کی نسبت دو حجوں سے افضل ہے۔“