أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ شَاذَانُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يَحْبِسْهُ مَرَضٌ أَوْ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُوَدِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا " وَهَذَا وَإِنْ كَانَ إِسْنَادُهُ غَيْرَ قَوِيٍّ فَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کو بیماری، ظاہری حاجت یا جابر حکمران نے نہ روکا، اس کے باوجود اس نے حج نہیں کیا تو وہ چاہے یہودی ہو کر مر جائے یا عیسائی۔“
اگرچہ اس کی سند قوی نہیں، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول سے اس کا شاہد موجود ہے۔
اگرچہ اس کی سند قوی نہیں، لیکن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول سے اس کا شاہد موجود ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نُعَيْمٍ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْقَرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لِيَمُتْ يَهُوَدِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَجُلٌ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ وَجَدَ لِذَلِكَ سَعَةً وَخُلِّيَتْ سَبِيلُهُ فَحَجَّةٌ أَحُجُّهَا وَأَنَا صَرُورَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سِتِّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعٍ ". ابْنُ نُعَيْمٍ يَشُكُّ وَلَغَزْوَةٌ أَغْزُوهَا بَعْدَمَا أَحُجُّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سِتِّ حَجَّاتٍ أَوْ سَبْعٍ. ابْنُ نُعَيْمٍ يَشُكُّ فِيهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا: ”وہ شخص یہودی یا عیسائی بن کر مرے“ جو (بلا عذر) حج ادا کیے بغیر مر گیا اور اس کے پاس وسعت بھی تھی، راستہ بھی کھلا تھا۔ فرمایا: ”ایک حج جسے میں ادا کروں جبکہ میں نے ابھی (پہلا) حج نہ کیا ہو، وہ میرے لیے چھ، سات غزوات سے زیادہ محبوب ہے۔“ اس روایت میں راوی ابن نعیم کو شک ہے اور ”حج کرنے کے بعد جہاد کرنا مجھے چھ یا سات حجوں سے زیادہ محبوب ہے۔“ اس روایت کے راوی ابن نعیم کو شک ہے، (یعنی چھ حج کہا یا سات)۔