السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: إمكان الحج باب: حج کا امکان (مواقع اور استطاعت) میسر آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8661
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نُعَيْمٍ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْقَرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " لِيَمُتْ يَهُوَدِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ رَجُلٌ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ وَجَدَ لِذَلِكَ سَعَةً وَخُلِّيَتْ سَبِيلُهُ فَحَجَّةٌ أَحُجُّهَا وَأَنَا صَرُورَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سِتِّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعٍ ". ابْنُ نُعَيْمٍ يَشُكُّ وَلَغَزْوَةٌ أَغْزُوهَا بَعْدَمَا أَحُجُّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سِتِّ حَجَّاتٍ أَوْ سَبْعٍ. ابْنُ نُعَيْمٍ يَشُكُّ فِيهِمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا: ”وہ شخص یہودی یا عیسائی بن کر مرے“ جو (بلا عذر) حج ادا کیے بغیر مر گیا اور اس کے پاس وسعت بھی تھی، راستہ بھی کھلا تھا۔ فرمایا: ”ایک حج جسے میں ادا کروں وہ میرے لیے چھ، سات غزوات سے زیادہ محبوب ہے۔“ اس روایت میں راوی ابن نعیم کو شک ہے اور ”حج کرنے کے بعد جہاد کرنا مجھے چھ یا سات حجوں سے زیادہ محبوب ہے۔“ اس روایت کے راوی ابن نعیم کو شک ہے، (یعنی چھ حج کہا یا سات)۔