أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ، ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا " فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ ⦗٥٣٤⦘ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " ثُمَّ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔“ ایک شخص کہنے لگا: ”ہر سال؟“ آپ ﷺ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ بات تین مرتبہ کہی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھ سکتے۔“ پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھا کرو۔ یقیناً تم سے پہلے لوگ اپنے زیادہ سوالوں اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، لہٰذا جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اس کو سرانجام دو اور جب میں کسی کام سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دیا کرو۔“
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ، فِي مَسْجِدِ الرَّصَاْفَةِ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّاْدُ، ثنا الْحَاْرِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: " لَا بَلْ لِلْأَبَدِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام نے حجِ افراد کا تلبیہ کہا۔ انھوں نے یہ ساری حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی فرمایا کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہمارا یہ حجِ تمتع اے اللہ کے رسول! اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ ". تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ عَقِيلٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانٍ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ: " لَا بَلْ لِلْأَبَدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض فرما دیا ہے“ تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہر سال (حج فرض ہے)؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دوں تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جائے گا اور اگر واجب ہو جائے تو تم کر نہ سکو گے اور نہ ہی اس کی استطاعت تم میں ہو گی، حج ایک مرتبہ (فرض) ہے، جو زائد کر لے تو وہ نفلی ہے۔“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“