کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جو اس (خانہ کعبہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور وہ آزاد، بالغ، عاقل اور مسلمان ہو اس پر حج کی فرضیت ثابت ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8606
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} [آل عمران: 97].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ ”اور اللہ کی خاطر لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔“ [سورة آل عمران: 97]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8606
حدیث نمبر: 8606
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ {وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٩٧] يَقُولُ: مَنْ كَفَرَ بِالْحَجِّ فَلَمْ يَرَ حَجَّهُ بِرًّا وَلَا تَرْكَهُ إِثْمًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 97] ”اور جو کفر کرے تو اللہ تعالیٰ جہانوں سے بے نیاز ہے“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے حج کا انکار کیا اور اسے نیکی اور اس کے ترک کو گناہ نہ سمجھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8606
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تفسير طبري: 3/ 357، تفسير ابن ابي حاتم: 3/ 3922»
حدیث نمبر: 8607
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ} [آل عمران: ٨٥] قَالَتِ الْيَهُوَدُ فَنَحْنُ مُسْلِمُونَ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَاخْصِمْهُمْ بِحُجَّتِهِمْ، يَعْنِي فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " فَقَالُوا: لَمْ يَكْتُبْ عَلَيْنَا وَأَبَوْا أَنْ يَحُجُّوا، قَالَ اللهُ {وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٩٧]. قَالَ عِكْرِمَةُ وَمَنْ كَفَرَ مِنْ أَهْلِ الْمِلَلِ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ﴾ [سورة آل عمران: 85] ”اور جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کیا تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔“ نازل ہوئی تو یہودیوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں تو ان کو ان کے دعویٰ میں غلط ثابت کیا گیا، یعنی ان کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر حج بیت اللہ فرض کیا ہے جو اس کے راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔“ تو وہ کہنے لگے: ”ہم پر فرض نہیں ہے“ اور انہوں نے حج کرنے سے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 97] عکرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل ادیان میں سے جو بھی اس کا انکار کرے تو اللہ تعالیٰ جہان والوں سے بےنیاز ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8607
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الدر المنثور: 2/276»
حدیث نمبر: 8608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٩٧] أَنَّ مَنْ حَجَّ لَمْ يَرَهُ بِرًّا وَمَنْ تَرَكَهُ لَمْ يَرَهُ إِثْمًا. وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَ مَا قَالَ عِكْرِمَةُ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ﴿وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 97] سے مراد وہ شخص ہے کہ اگر وہ حج کرے تو اسے نیکی نہ سمجھے اور اگر اسے ترک کرے تو اسے گناہ نہ سمجھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8608
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تفسير طبري: 3/ 357»
حدیث نمبر: 8609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ ⦗٥٣٢⦘ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا} [آل عمران: ٨٥] قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ أَهْلُ الْمِلَلِ كُلُّهُمْ: نَحْنُ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللهُ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ} [آل عمران: ٩٧] قَالَ يَعْنِي عَلَى النَّاسِ فَحَجَّ الْمُسْلِمُونَ وَتَرَكَهُ الْمُشْرِكُونَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت ﴿وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا﴾ [سورة آل عمران: 85] نازل ہوئی تو تمام اہل ادیان نے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ﴾ [سورة آل عمران: 97] ”لوگوں پر اللہ کی رضا کی خاطر بیت اللہ کا حج فرض ہے“ نازل فرمائی تو مسلمانوں نے حج کیا اور مشرکین نے نہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8609
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 8610
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُرَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا نَعْرِفُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ السَّبِيلَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: صَدَقْتَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ " قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ جَبْرَائِيلُ أَتَاكُمْ يعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ كَهْمَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انتہائی سیاہ بالوں اور بہت ہی سفید کپڑوں والا شخص نمودار ہوا، اس پر نہ تو سفر کے آثار تھے اور نہ ہی ہم اس کو جانتے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ ﷺ کے گھٹنوں کے ساتھ ملا دیے اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں پر رکھا، پھر کہا: ”اے محمد ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے کہ اسلام کیا ہے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔“ تو اس آدمی نے کہا کہ آپ سچ فرماتے ہیں (اس ساری حدیث کو ذکر کیا)۔ پھر کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا ہے، یہ سائل کون تھا؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8610
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 8، نسائي4990»
حدیث نمبر: 8611
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ فِي كِتَابِ مَعْرِفَةِ الْحَدِيثِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَأْتِيَهُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، قَالَ: " اللهُ " قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: " اللهُ " قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ؟ قَالَ: " اللهُ " قَالَ: فَمَنْ جَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ؟ قَالَ: " اللهُ " قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا هَذِهِ الْمَنَافِعَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَدَقَةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرٍ فِي سَنَتِنَا، قَالَ: " صَدَقَ " قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: " صَدَقَ "، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: " لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ ". ⦗٥٣٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدِ عَنْ أَبِي النَّضْرِ هَاشِمِ بْنِ الْقَاسِمِ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے کسی بھی چیز کا سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی شخص آئے اور وہ سوال کرے اور ہم سنیں، تو ایک شخص انہیں میں سے آیا اور اس نے کہا: اے محمد ﷺ! ہمارے پاس آپ ﷺ کا قاصد آیا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ ﷺ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس بدوی نے کہا: آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے پوچھا: زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے کہا کہ یہ پہاڑ کس نے نصب کیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ اس نے کہا: تو ان میں یہ فائدے کس نے رکھے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے۔“ تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں فوائد رکھے، کیا اللہ نے نبی ﷺ کو بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا آپ ﷺ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا کہ آپ کے قاصد نے یہ سمجھا ہے کہ ہمارے ذمہ ہمارے مالوں کا صدقہ بھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر حج بیت اللہ فرض ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے۔“ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنایا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں!“ تو وہ کہنے لگا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں ان میں نہ تو کمی کروں گا، نہ اضافہ۔ جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ ضرور جنت میں جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8611
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 12»
حدیث نمبر: 8612
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ الْحِنْثَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ ". وَرُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ظَبْيَانَ وَأَبِي الضُّحَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سویا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہ ہو، بچہ جب تک وہ بالغ نہ ہو اور دیوانہ، جب تک اس کو افاقہ نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8612
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
حدیث نمبر: 8613
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ حَجَّةً أُخْرَى وَأَيُّمَا أَعْرَابِيٌّ حَجَّ ثُمَّ هَاجَرَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى وَأَيُّمَا عَبْدٍ حَجَّ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بچہ بھی حج کرے اور پھر وہ سنِ بلوغت کو پہنچ جائے تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے، جو کوئی دیہاتی حج کرے پھر ہجرت کر لے تو اس پر لازم ہے کہ دوسرا حج کرے، جو بھی غلام حج کر لے، پھر وہ آزاد ہو جائے تو اس پر پھر حج کرنا ضروری ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8613
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن خزيمه 3050۔ حاكم 1/ 655»
حدیث نمبر: 8614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا حَجَّ الْأَعْرَابِيُّ ثُمَّ هَاجَرَ فَإِنَّ عَلَيْهِ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالصَّبِيُّ. هَكَذَا رَوَاهُ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب دیہاتی حج کر لے، پھر ہجرت کرے تو اس پر اسلام کا حج فرض ہے اور اسی طرح غلام اور بچے کا معاملہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8614
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن ابي شيبه 4875»