حدیث نمبر: 8615
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ، ح وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ فَحُجُّوا " فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ ⦗٥٣٤⦘ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ " ثُمَّ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو۔“ ایک شخص کہنے لگا: ”ہر سال؟“ آپ ﷺ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ بات تین مرتبہ کہی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھ سکتے۔“ پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھا کرو۔ یقیناً تم سے پہلے لوگ اپنے زیادہ سوالوں اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہو گئے، لہٰذا جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اس کو سرانجام دو اور جب میں کسی کام سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دیا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8615
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1337»