کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: معتکف کا مسجد سے پیشاب یا پاخانے کے لیے نکلنا، پھر وہ چلتے ہوئے گزرنے کے سوا کسی مریض کی خیریت دریافت نہ کرے، اور نہ ہی کسی مریض کی عیادت کے لیے نکلے، نہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جائے، اور نہ ہی عورت سے ہم بستری کرے اور نہ اسے چھوئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا، وَلَا يَشْهَدُ جِنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ" قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ذَهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْحُفَّاظِ إِلَى أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ مِنْ قَوْلِ مَنْ دُونَ عَائِشَةَ وَأَنَّ مَنْ أَدْرَجَهُ فِي الْحَدِيثِ وَهِمَ فِيهِ، فَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: الْمُعْتَكِفُ لَا يَشْهَدُ جِنَازَةً وَلَا يَعُودُ مَرِيضًا وَلَا يُجِيبُ دَعْوَةً وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصِيَامٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ. وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: الْمُعْتَكِفُ لَا يَعُودُ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدُ جِنَازَةً.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ مریض کی عیادت نہ کرے، جنازے میں حاضر نہ ہو، عورت کو نہ چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے، اور کسی حاجت کے لیے نہ نکلے سوائے اس کے جو انتہائی ضروری ہو، روزے کے بغیر اعتکاف نہیں اور جامع مسجد کے بغیر اعتکاف نہیں۔
(ہشام بن عروہ، عروہ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں شریک نہ ہو اور نہ بیمار کی تیمارداری کرے، نہ دعوت قبول کرے اور نہ ہی روزوں کے بغیر اعتکاف کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: معتکف تیمارداری نہ کرے اور جنازے میں شریک بھی نہ ہو۔)
بہت سے حفاظ کی رائے ہے کہ یہ کلام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نیچے کے کسی راوی کا قول ہے، اور جس نے اسے حدیث میں شامل کیا اس نے وہم کیا۔
(ہشام بن عروہ، عروہ رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ معتکف جنازے میں شریک نہ ہو اور نہ بیمار کی تیمارداری کرے، نہ دعوت قبول کرے اور نہ ہی روزوں کے بغیر اعتکاف کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف ہے۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: معتکف تیمارداری نہ کرے اور جنازے میں شریک بھی نہ ہو۔)
بہت سے حفاظ کی رائے ہے کہ یہ کلام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نیچے کے کسی راوی کا قول ہے، اور جس نے اسے حدیث میں شامل کیا اس نے وہم کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلَا يَعْرُجُ يَسْأَلُ عَنْهُ، ⦗٥٢٧⦘ وَقَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ مریض کے پاس سے گزرتے اور آپ ﷺ معتکف ہوتے اور ویسے ہی گزر جاتے، اس کے سامنے آ کر اسے نہ پوچھتے۔
ابن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مریض کی تیمارداری کرتے اس حال میں کہ آپ ﷺ معتکف ہوتے۔
ابن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مریض کی تیمارداری کرتے اس حال میں کہ آپ ﷺ معتکف ہوتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذَا اعْتَكَفَ فَلَا يجَامِعُ النِّسَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب آدمی اعتکاف کرے تو عورت سے مباشرت نہ کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الصَّائِغُ، ثنا آدَمُ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} [البقرة: ١٨٧] قَالَ: الْمُبَاشَرَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمَسُّ جِمَاعٌ كُلُّهُ وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں اسی آیت کے حوالے سے ﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ [سورة البقرة: 187] مباشرت، ملامست اور مس سب سے مراد جماع ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جس چیز کو جس لفظ سے چاہتا ہے کنایۃً بیان فرماتا ہے۔