السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: المعتكف يخرج من المسجد لبول أو غائط ثم لا يسأل عن المريض إلا مارا ولا يخرج لعيادة مريض ولا شهادة جنازة ولا يباشر امرأة ولا يمسها. باب: معتکف کا مسجد سے پیشاب یا پاخانے کے لیے نکلنا، پھر وہ چلتے ہوئے گزرنے کے سوا کسی مریض کی خیریت دریافت نہ کرے، اور نہ ہی کسی مریض کی عیادت کے لیے نکلے، نہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جائے، اور نہ ہی عورت سے ہم بستری کرے اور نہ اسے چھوئے۔
حدیث نمبر: 8595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلَا يَعْرُجُ يَسْأَلُ عَنْهُ، ⦗٥٢٧⦘ وَقَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ..حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ مریض کے پاس سے گزرتے اور آپ ﷺ معتکف ہوتے اور ویسے ہی گزر جاتے، اس کے سامنے آ کر اسے نہ پوچھتے۔
ابن عیسیٰ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مریض کی تیمارداری کرتے اس حال میں کہ آپ ﷺ معتکف ہوتے۔