السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: المعتكف يخرج من المسجد لبول أو غائط ثم لا يسأل عن المريض إلا مارا ولا يخرج لعيادة مريض ولا شهادة جنازة ولا يباشر امرأة ولا يمسها. باب: معتکف کا مسجد سے پیشاب یا پاخانے کے لیے نکلنا، پھر وہ چلتے ہوئے گزرنے کے سوا کسی مریض کی خیریت دریافت نہ کرے، اور نہ ہی کسی مریض کی عیادت کے لیے نکلے، نہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جائے، اور نہ ہی عورت سے ہم بستری کرے اور نہ اسے چھوئے۔
حدیث نمبر: 8597
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الصَّائِغُ، ثنا آدَمُ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ} [البقرة: ١٨٧] قَالَ: الْمُبَاشَرَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمَسُّ جِمَاعٌ كُلُّهُ وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں اسی آیت کے حوالے سے ﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾ [سورة البقرة: 187] مباشرت و ملاسمت سے مراد مباشرتِ مجامعت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہے کر سکتے ہیں۔