أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُدَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجِعْرَانَةَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ يَوْمًا أَعْتَكِفُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَاعْتَكِفْهُ وَصُمْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جعرانہ مقام پر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ذمے ایک دن کا اعتکاف ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جا اعتکاف کر اور روزہ بھی رکھ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بُدَيْلٍ عَنْ عُمَرَ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ قَالَ عَلِيٌّ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ؛ لِأَنَّ الثِّقَاتِ مِنْ أَصْحَابِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ لَمْ يَذْكُرُوهُ مِنْهُمْ ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُهُمْ وَابْنُ بُدَيْلٍ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن عمر الحافظ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن بدیل اسے عمرو سے اکیلے بیان کرتے ہیں اور وہ ضعیف الحدیث ہیں۔
علی کہتے ہیں: میں نے ابوبکر نیشاپوری کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے، کیونکہ عمرو بن دینار کے ثقہ شاگردوں نے اسے ذکر نہیں کیا، ان میں ابن جریج، ابن عیینہ، حماد بن سلمہ اور حماد بن زید وغیرہ ہیں، اور ابن بدیل ضعیف الحدیث ہیں۔
علی کہتے ہیں: میں نے ابوبکر نیشاپوری کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے، کیونکہ عمرو بن دینار کے ثقہ شاگردوں نے اسے ذکر نہیں کیا، ان میں ابن جریج، ابن عیینہ، حماد بن سلمہ اور حماد بن زید وغیرہ ہیں، اور ابن بدیل ضعیف الحدیث ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الشِّرْكِ وَلَيَصُومَنَّ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِنَذْرِهِ. ⦗٥٢١⦘ ذِكْرُ نَذْرِ الصَّوْمِ مَعَ الِاعْتِكَافِ غَرِيبٌ تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے شرک کے دور میں اعتکاف اور روزے کی نذر مانی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اسے نذر پوری کرنے کا حکم دیا۔
(نذر کے روزے کے ساتھ اعتکاف کا ذکر کرنا غریب سند سے ہے)۔
اسے سعید بن بشیر نے عبیداللہ سے اکیلے بیان کیا ہے۔
(نذر کے روزے کے ساتھ اعتکاف کا ذکر کرنا غریب سند سے ہے)۔
اسے سعید بن بشیر نے عبیداللہ سے اکیلے بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ ". كَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ وَفِي آخِرِهِ، وَالسُّنَّةُ فِيمَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي هَذَا الْجُزْءِ، كَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا: ”روزے کے بغیر اعتکاف نہیں۔“
(زہری نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عروہ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے جس کے آخر میں ہے کہ جس نے اعتکاف کیا اس کے لیے سنت ہے کہ وہ روزہ رکھے۔)
(زہری نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عروہ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے جس کے آخر میں ہے کہ جس نے اعتکاف کیا اس کے لیے سنت ہے کہ وہ روزہ رکھے۔)
وَرُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصِيَامٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ فَذَكَرَهُ وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ أَوْ مِنْ سُوَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَسُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّمَشْقِيُّ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ مَا تَفَرَّدَ بِهِ. وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَوْقُوفًا مَنِ اعْتَكَفَ فَعَلَيْهِ الصِّيَامُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”روزہ کے علاوہ اعتکاف نہیں۔“
(عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف بیان کرتے ہیں کہ جس نے اعتکاف کیا اس پر روزے ہیں۔)
یہ سفیان بن حسین یا سوید بن عبدالعزیز کا وہم ہے، اور سوید بن عبدالعزیز دمشقی سخت ضعیف ہیں، جس روایت میں وہ منفرد ہوں وہ قبول نہیں کی جاتی۔
(عطاء سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف بیان کرتے ہیں کہ جس نے اعتکاف کیا اس پر روزے ہیں۔)
یہ سفیان بن حسین یا سوید بن عبدالعزیز کا وہم ہے، اور سوید بن عبدالعزیز دمشقی سخت ضعیف ہیں، جس روایت میں وہ منفرد ہوں وہ قبول نہیں کی جاتی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا أَسَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حبیب، عطاء سے بیان کرتے ہیں، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " يَصُومُ الْمُجَاوِرُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ ابو فاختہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہے تھے: روزہ رکھنے والا ہی بیٹھ سکتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا فَاخِتَةَ سَعِيدَ بْنَ عَلَاقَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " يَصُومُ الْمُجَاوِرُ "، وَالْمُجَاوِرُ الْمُعْتَكِفُ. فَحُكِيَ لِسُفْيَانَ أَنَّ هُشَيْمًا يَقُولُهُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:: لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: أَخْطَأَ هُشَيْمٌ هُوَ كَمَا قُلْتُ لَكَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے: «مُجَاوِر» روزہ رکھے اور «مُجَاوِر» سے مراد «مُعْتَكِف» ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ كَيْفَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: عَلَى الْمُجَاوِرِ الصَّوْمُ، فَقَالَ عُمَرٌو: " وَلَيْسَ كَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا قَالَ: الْمُجَاوِرُ يَصُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے ابو محمد! ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ ”مجاور (معتکف) پر روزہ ہے“؟ عمرو رحمہ اللہ نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسے نہیں کہا، انہوں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ ”مجاور روزہ رکھتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ أَنَّهُمَا قَالَا: " الْمُعْتَكِفُ يَصُومُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں کہتے ہیں کہ معتکف (اعتکاف کرنے والا) کا روزے دار ہونا ضروری ہے۔