أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْبَنْدَكْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأَرَانِي صَبِيحَتَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ " قَالَ فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ لَعَلَى أَنْفِهِ وَجَبْهَتِهِ. قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر اسے بھلا دیا گیا اور مجھے دکھایا گیا کہ اس رات کی صبح میں پانی و مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہمیں تئیسویں رات کو بارش دی گئی تو آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب آپ ﷺ پھرے تو پانی و مٹی کے نشانات آپ ﷺ کے ناک اور پیشانی پر تھے، تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ وہ تئیسویں رات ہے۔
أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو النَّضْرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، قَالَ: كُنَّا بِالْبَادِيَةِ فَقُلْنَا إِنْ قَدِمْنَا بِأَهْلِينَا شَقَّ عَلَيْنَا وَإِنْ خَلَّفْنَاهُمْ أَصَابَتْهُمْ ضِيقَةٌ، قَالَ: فَبَعَثُونِي وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَهُمْ فَأَمَرَنَا بِلَيْلَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ. قَالَ ابْنُ الْهَادِ: فَكَانَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَجْتَهِدُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم گاؤں میں تھے، ہم نے کہا: اگر ہم بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جاتے ہیں تو ہم پر مشکل ہے، اگر انہیں پیچھے چھوڑتے ہیں تو انہیں کوئی پریشانی آ سکتی ہے، تو انہوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور میں سب سے چھوٹا تھا، تو میں نے ان کی بات آپ ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے ہمیں ”تئیسویں رات کو قیام“ کا حکم دیا۔
ابن الہاد کہتے ہیں: چنانچہ محمد بن ابراہیم اس رات (عبادت میں) خوب محنت کیا کرتے تھے۔
ابن الہاد کہتے ہیں: چنانچہ محمد بن ابراہیم اس رات (عبادت میں) خوب محنت کیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللهِ فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ: " انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ " فَقُلْتُ لِابْنِهِ: فَكَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ ⦗٥١٠⦘ لِحَاجَةٍ حَتَّى يصَلِّيَ الصُّبْحَ فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْهَا فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کے بیٹے اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دیہات میں رہتا ہوں اور الحمد للہ میں وہاں نماز پڑھتا ہوں، آپ ﷺ مجھے ایک رات کا حکم دیں تاکہ میں اس مسجد میں آؤں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تیئیسویں رات کو آؤ۔“ (محمد بن ابراہیم کہتے ہیں:) میں نے ان کے بیٹے سے کہا: تیرے والد کیا کرتے تھے؟ اس نے کہا: وہ مسجد میں داخل ہوتے جب عصر کی نماز پڑھ لیتے، پھر وہ کسی حاجت کے لیے بھی نہ نکلتے حتیٰ کہ فجر کی نماز پڑھ لیتے اور جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری کو مسجد کے دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے گاؤں کو آجاتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ " قَالُوا: مَضَى اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ ثَمَانٍ، فَقَالَ: " بَلْ مَضَى اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ کس قدر گزر گیا ہے؟“ تو انھوں نے کہا: بائیس گزر گئے اور آٹھ باقی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ بائیس گزر چکے اور سات باقی ہیں، لہذا اسے آج رات تلاش کرو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِيُّ بِمَدِينَةِ السَّلَامِ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي نُعَيْمٍ، أَحَدَّثَكُمْ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَرَاهُ قَدْ ذَكَرَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟ " قَالُوا: اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ ثَمَانٍ قَالَ: " مَضَى اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَالْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ " فَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو لوگوں نے لیلۃ القدر کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ کس قدر گزر چکا ہے؟“ انہوں نے کہا: بائیس اور آٹھ باقی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بائیس گزر چکے اور سات باقی ہیں۔ مہینہ انتیس کا ہوتا ہے۔ سو تم اسے آج رات تلاش کرو۔“ تو ابونعیم نے کہا: جی۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا خَلَّادٌ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟ " قُلْنَا اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ ثَمَانٍ فَقَالَ: " مَضَى اثْنَتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ اطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے لیلۃ القدر کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہینہ کس قدر گزر چکا؟“ ہم نے کہا: بائیس دن اور آٹھ باقی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بائیس گزر چکے اور سات باقی ہیں۔ لہٰذا اسے آج رات تلاش کرو، مہینہ انتیس کا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ لَيْلَةَ سَبْعَةَ عَشَرَ صَبِيحَةَ بَدْرٍ أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، اسود رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیلۃ القدر کو سترہ کی رات، جس کی صبح بدر کا دن تھا، یا پھر اکیس یا تئیس کی رات تلاش کرو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اطْلُبُوهَا لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ وَلَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَلَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ثُمَّ سَكَتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے تلاش کرو رمضان کی سترہ کو اور اکیس کو اور تئیس کو۔“ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔