حدیث نمبر: 8538
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنَا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْدِ اللهِ فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ: " انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ " فَقُلْتُ لِابْنِهِ: فَكَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ ⦗٥١٠⦘ لِحَاجَةٍ حَتَّى يصَلِّيَ الصُّبْحَ فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهِ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْهَا فَلَحِقَ بِبَادِيَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دیہات میں رہتا ہوں اور الحمد للہ میں نماز پڑھتا ہوں، آپ ﷺ مجھے ایک رات کا حکم دیں تاکہ میں اس مسجد میں آؤں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تیئیسویں رات کو آؤ۔“ میں نے اپنے بیٹے سے کہا: تیرے والد کیا کرتے تھے؟ اس نے کہا: وہ مسجد میں داخل ہوتے جب عصر کی نماز پڑھ لیتے، پھر وہ سوائے حاجت کے نہ نکلتے حتیٰ کہ فجر کی نماز پڑھ لیتے اور جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری کو دروازے پر پاتے اور اس پر بیٹھ کر اپنے گاؤں کو آجاتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8538
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ انظر قبله»