کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے مسلسل روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا بشرطیکہ انسان کو اپنے اوپر کمزوری کا خوف نہ ہو اور وہ ان ایام میں روزہ افطار کرے جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْأَدِيبُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ الْيَشْكُرِيِّ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا " وَعَقَدَ تِسْعِينَ لَفْظُ أَبِي دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے پورا سال روزے رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا“ اور آپ ﷺ نے نوے کی گرہ لگائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: " مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا، وَعَقَدَ عَلَى تِسْعِينَ " لَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جس نے سال بھر کے روزے رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔“ اور انہوں نے نوے کی گرہ لگائی۔
شعبہ نے اسے مرفوع (نبی کریم ﷺ کا فرمان) بیان نہیں کیا۔
شعبہ نے اسے مرفوع (نبی کریم ﷺ کا فرمان) بیان نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مُعَانِقٍ أَوِ ابْنِ مُعَانِقٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جنت میں ایک کمرہ ہے جس کے ظاہر سے اس کا باطن دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے باطن سے اس کا ظاہر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسے اللہ نے ان کے لیے تیار کیا ہے جو نرم کلام کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں اور متواتر روزے رکھتے ہیں اور جب لوگ سو جائیں تو وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، أَحْسَبُهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مُرْنِي بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ " قَالَ: فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لَا يُلْقَى إِلَّا صَائِمًا هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ، فَإِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ قِيلَ: اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو اللهَ أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللهُ لِي فِيهِ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ، قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَكَتَبَ لَكَ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا سَيِّئَةً " تَابَعَهُ مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْهِلَالِيِّ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک قافلہ بھیجا، (راوی نے) آگے حدیث بیان کی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسا حکم دیں جو میرے لیے مفید ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اوپر (روزے کو) لازم کر لو، کیونکہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں۔“ پھر ابو امامہ رضی اللہ عنہ نہیں ملا کرتے تھے مگر روزے کی حالت میں، وہ، ان کا خادم اور ان کی بیوی بھی (اسی حال میں ہوتے تھے)۔ جب دن میں ان کے گھر میں دھواں دکھائی دیتا تو ہم سمجھتے کہ کوئی مہمان آیا ہے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے ایک بات بتائی، مجھے امید ہے اللہ اس میں برکت دیں گے۔ مجھے کوئی اور بات بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جان لے کہ تو کوئی بھی سجدہ نہیں کرتا مگر اس کے ساتھ اللہ تیرا درجہ بلند کرتا ہے، تیرے لیے نیکی لکھی جاتی ہے اور تیرا گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ ⦗٤٩٦⦘ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ كَانَ يَسْرُدُ الصِّيَامَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، قَالَ نَافِعٌ وَسَرَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ فِي آخِرِ زَمَانِهِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فوت ہونے سے قبل مسلسل روزے رکھا کرتے تھے۔ نافع کہتے ہیں: اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنی آخری عمر میں مسلسل روزے رکھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ جَشِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ زُرْعَةَ بْنَ ثَوْبٍ يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ قَالَ: " كُنَّا نَعُدُّ أُولَئِكَ فِينَا مِنَ السَّابِقِينَ "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ يَوْمٍ وَفِطْرِ يَوْمٍ، قَالَ: " لَمْ يَدَعْ ذَلِكَ لِصَائِمٍ مَصَامًا "، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ: " صَامَ ذَلِكَ الدَّهْرَ وَأَفْطَرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
زرعہ بن ثوب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے «صِيَامِ الدَّهْرِ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم انہیں سابقین میں شمار کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ایک روزہ رکھنے اور ایک چھوڑنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے روزے دار نے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ وہ کہتے ہیں اور ان سے ہر ماہ کے تین روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس نے پورا سال روزے رکھے اور افطار کیا۔
وَأَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَصُومُ الدَّهْرَ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر اور حضر میں پورے سال کے روزے رکھتی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي سَفَرٍ صَائِمَةً فَقَامَتْ تَرْكَبُ بَعْدَ الْعَصْرِ فَضَرَبَتْهَا سَمُومٌ حَتَّى لَمْ تُطِقْ تَرْكَبُ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سفر میں روزے رکھتے دیکھا، تو وہ عصر کے بعد سوار ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں مگر انہیں گرم لُو نے آ لیا جس وجہ سے وہ سوار نہ ہو سکیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لَا يَصُومُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الْغَزْوِ فَلَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَهُ مُفْطِرًا إِلَّا يَوْمَ الْفِطْرِ أَوْ يَوْمَ النَّحْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں غزوات کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتے تھے، جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی تو انہیں کبھی مفطر حالت میں نہیں دیکھا گیا سوائے یوم الفطر اور یوم النحر کے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِهَمَذَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: " كَانَ أَبُو طَلْحَةَ لَا يَصُومُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَهُ مُفْطِرًا إِلَّا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں روزے نہیں رکھا کرتے تھے۔ جب نبی ﷺ فوت ہو گئے تو پھر وہ کبھی بغیر روزے کے نہیں پائے گئے سوائے یوم الفطر اور یوم النحر کے۔