کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان کا بیان جنہوں نے صومِ دہر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کو مکروہ قرار دیا، اور جس شخص کو خود پر کمزوری کا خوف ہو اس کے لیے عبادت میں میانہ روی کو مستحب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 8473
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " قَالَ: فَقُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”تو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ہمیشہ رات کا قیام کرتا ہے۔“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو ایسا کرے گا تو تیری آنکھیں دھنس جائیں گی اور تیرا نفس لاغر ہو جائے گا۔ جس نے سال بھر کے روزے رکھے اس کا کوئی روزہ مقبول نہیں ہو گا، تو ہر مہینے کے تین روزے رکھ، یہ پورے سال کے روزے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں: اس سے زیادہ کی مجھ میں طاقت ہے۔ ”پھر تو داؤد علیہ السلام جیسے روزے رکھا کر، وہ ایک دن کا روزہ رکھتا اور ایک دن کا افطار کرتا اور جب دشمن کو ملتے تھے تو بھاگتے نہیں تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8473
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 8474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَّ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلْ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ كُلَّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا ذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ " قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: " فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " قَالَ: فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: " فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ " قَالَ: فَقُلْتُ وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ؟ قَالَ: " نِصْفُ الدَّهْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے خبر نہ دوں کہ تو «صَائِمُ النَّهَارِ» ”دن کو روزہ رکھنے والا“ اور «قَائِمُ اللَّيْلِ» ”رات کو قیام کرنے والا“ ہے؟“ وہ کہتے ہیں میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! ایسے ہی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کر بلکہ تو سو اور قیام کر اور روزہ رکھ اور روزہ افطار کر، تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے، تجھ پر تیری آنکھ کا حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے، تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، تیرے لیے یہ کافی ہے کہ تو ہر ماہ میں تین روزے رکھے اور بے شک ہر نیکی دس گنا ہے، جب تو یہ کرے گا تو «صَائِمُ الدَّهْرِ» ”ہمیشہ روزہ رکھنے والا“ ہوگا۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے سختی کی تو مجھ پر بھی سختی کی گئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! مجھ میں طاقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو ہر ہفتے میں تین روزے رکھ۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! میں استطاعت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ اور اس سے زیادہ نہ کر۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کے روزے کیا تھے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدھا سال۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8474
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 8475
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَا تَزِيدَنَّ ⦗٤٩٤⦘ عَلَيْهِ وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو يَقُولُ بَعْدَ مَا أَدْرَكَهُ الْكِبَرُ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ وَحُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن المبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اوزاعی رحمہ اللہ نے ایسے ہی حدیث بیان کی مگر یہ کہ انہوں نے کہا: ”اس سے زیادہ نہ کرنا“ اور آخر میں اضافہ بھی کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بوڑھے ہونے کے بعد کہا کرتے تھے: ”کاش میں رخصت قبول کر لیتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8475
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 8476
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ صَوْمُكَ أَوْ كَيْفَ تَصُومُ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَلَمَّا أَنْ سَكَنَ عَنْهُ الْغَضَبُ سَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ صَوْمُكَ أَوْ كَيْفَ تَصُومُ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ: " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " أَوْ قَالَ: " مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَيْنِ وَأَفْطَرَ يَوْمًا؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَنْ يطِيقُ ذَلِكَ يَا عُمَرُ لَوَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمًا وَأَفْطَرَ يَوْمًا؟ قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ " فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ وَالسَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهَا " قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ ثَلَاثًا مِنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: " ذَاكَ صَوْمُ الدَّهْرِ " قَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: " يُكَفِّرُ السَّنَةَ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ مَنْ صَامَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ فِيهِ النُّبُوَّةُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَبَّانَ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے نبی! آپ کے روزے کیسے ہیں یا آپ ﷺ روزے کس طرح رکھتے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ اسے کوئی جواب نہ دیا۔ جب آپ ﷺ کا غصہ تھما تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ﷺ کیسے روزے رکھتے ہیں اور اس کے متعلق بتائیے جو پورا سال روزے رکھتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے دو دن روزہ رکھا اور ایک دن افطار کیا اس کے بارے میں بتائیے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ ایسا کروں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! جس نے ایک دن روزہ رکھا اور ایک دن افطار کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ پھر کہا: اے اللہ کے رسول! جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا اس کی خبر دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال کے گناہ مٹا دے گا اور ایک سال پہلے کے بھی۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی خبر دیں جس نے ہر ماہ تین روزے رکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سال بھر کے روزے ہیں۔“ پھر کہا: اس کی خبر دیں جس نے عاشوراء کا روزہ رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال کے گناہ معاف ہوں گے۔“ پھر کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی خبر دیں جس نے پیر کا روزہ رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور مجھ پر نبوت نازل کی گئی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8476
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»