کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 8487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالُوا: ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، ⦗٤٩٧⦘ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: هَلْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: أَيْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجِ قَالَ الْبُخَارِيُّ زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ أَنْ يُفْرِدَ بِصَوْمٍ، قَالَ الشَّيْخُ: هَذِهِ الزِّيَادَةُ ذَكَرَهَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ إِلَّا أَنَّهُ قَصَّرَ بِإِسْنَادِهِ فَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ جُبَيْرٍ وَقَدْ رَوَيْتُ هَذِهِ الزِّيَادَةَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کے روزے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہاں، اس گھر کے رب کی قسم۔
حدیث نمبر: 8488
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے مگر یہ کہ اس سے پہلے یا بعد میں ایک روزہ رکھے۔“
حدیث نمبر: 8489
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَصُمْ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ يَصُومَ بَعْدَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو معاویہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور اسی سند کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”تم میں سے کوئی جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الا یہ کہ اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھے۔“
حدیث نمبر: 8490
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلَا تَخْتَصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ: ”جمعہ کی رات کو قیام کے لیے دوسری راتوں کے علاوہ مخصوص نہ کرو اور نہ ہی جمعہ کو روزے کے ساتھ دیگر ایام میں سے خاص کرو، سوائے اس کے کہ وہ ان روزوں میں سے ہو جو تم پہلے رکھ رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 8491
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ فَقَالَ: " صُمْتِ أَمْسِ؟ " فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَتَصُومِينَ غَدًا؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَأَفْطِرِي " ⦗٤٩٨⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے جمعہ کے دن اور وہ روزے سے تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کل کا روزہ رکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو آنے والی کل کا روزہ رکھے گی؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر روزہ افطار کر لے۔“
حدیث نمبر: 8492
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا يُوسُفُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
مسدد رحمہ اللہ، یحییٰ رحمہ اللہ سے اور وہ شعبہ رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔