کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے اس بات کو مکروہ جانا کہ آدمی مہینوں میں سے کسی خاص مہینے کو مکمل روزوں کے لیے چن لے یا دنوں میں سے کسی خاص دن کو روزے کے لیے مقرر کر لے۔
حدیث نمبر: 8471
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھا کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے: اب آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے، آپ ﷺ افطار کیا کرتے تو ہم کہتے: اب آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے مکمل مہینے کے روزے رکھے ہوں سوائے رمضان کے اور میں نے آپ ﷺ کو کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 8472
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ ⦗٤٩٣⦘ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخُصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: " لَا كَانَ عَمَلُهُنَّ دِيمَةً وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ؟ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ کہتے ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ کوئی دن مخصوص بھی کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ کا عمل ہمیشگی کا ہوتا تھا اور تم میں سے کون اس قدر طاقت رکھتا ہے جس قدر آپ ﷺ طاقت رکھتے تھے۔