کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، ثنا ⦗٤٥٦⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ: " فَإِنِّي صَائِمٌ " قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ وَقَدْ خَبَّأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ: " مَا هُوَ؟ " قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ: " هَاتِيهِ " فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَفْظُ الْعَقَدِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ طَلْحَةُ: فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
حافظ ثناء اللہ
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے کہا: ”اے عائشہ! کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں روزے سے ہوں۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے تو ہمیں ہدیہ دیا گیا یا ہمارے پاس کچھ مہمان آئے۔ ہمارے پاس جب رسول اللہ ﷺ پلٹے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے یا ہمارے پاس کچھ مہمان آئے اور میں نے آپ ﷺ کے لیے کچھ چھپا لیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: وہ حیس ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ میں لائی تو آپ ﷺ نے کھا لیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ویسے صبح میں نے روزے کی نیت کی تھی۔“
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8339
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّا خَبَّأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ: " أَمَا إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقَضَاءَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ ﷺ کے لیے حیس چھپایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ویسے میں تو روزے کا ارادہ رکھتا تھا مگر تو اسے قریب کر۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8340
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَمِيلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: خَبَّأْنَا لَكَ حَيْسًا، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ وَلَكِنْ قَرِّبِيهِ وَأَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ " وَكَانَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَحْمِلُ فِي هَذَا اللَّفْظِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيِّ هَذَا وَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرُهُ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَقَدْ حَدَّثَ بِهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَهُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میں نے کہا: ہم نے آپ ﷺ کے لیے حیس چھپا کر رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا ارادہ تو روزے کا تھا، مگر تو اسے میرے قریب کر، اور میں اس کے عوض ایک دن کی قضا کر لوں گا۔“
ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ ان الفاظ کا الزام اسی محمد بن عمرو بن عباس باہلی پر ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کے علاوہ کسی نے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ بیان نہیں کی اور اس کی متابعت نہیں کی گئی، حالانکہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ ابن عیینہ نے اپنی عمر کے آخر میں اسے بیان کیا ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ غیر محفوظ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8341
درجۂ حدیث محدثین: انظر قبله
تخریج حدیث «انظر قبله»
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ، ثنا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ سَلَامَةَ، ثنا الْمُزَنِيُّ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِاللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الرَّبِيعُ وَزَادَ فِي آخِرِهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ، ⦗٤٥٧⦘ قَالَ الْمُزَنِيُّ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ عَامَّةَ مَجَالِسِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ ثُمَّ عَرَضْتُهُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِسَنَةٍ فَأَجَابَ فِيهِ سَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَتُهُ عَامَّةَ دَهْرِهِ لِهَذَا الْحَدِيثِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ هَذَا اللَّفْظَ مَعَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى لَا يَذْكُرُهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ وَوَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَغَيْرُهُمْ تَدُلُّ عَلَى خَطَأِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَةَ لَيْسَ فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ان الفاظ میں بیان کیا جو ربیع رحمہ اللہ کی حدیث کے ہیں اور اس کے آخر میں یہ بیان کیا کہ: ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا۔“
مزنی کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میں نے سفیان کو ان کی اکثر مجالس میں سنا کہ وہ اس میں ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا“ ذکر نہیں کرتے تھے، پھر میں نے ان کی وفات سے ایک سال پہلے یہ حدیث ان پر پیش کی تو انہوں نے اس میں ”عنقریب اس کے عوض میں روزہ رکھوں گا“ کہا۔
شیخ کہتے ہیں: ان کا اپنی اکثر عمر اس حدیث کو ان الفاظ کے بغیر بیان کرنا، اور ساتھ ہی طلحہ بن یحییٰ سے ایک جماعت کا اسے بیان کرنا جن میں سے کوئی بھی یہ الفاظ ذکر نہیں کرتا (ان میں سفیان ثوری، شعبہ بن حجاج، عبدالواحد بن زیاد، وکیع بن جراح، یحییٰ بن سعید قطان، یعلیٰ بن عبید وغیرہ شامل ہیں)، اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الفاظ غلط ہیں، واللہ اعلم۔ اور یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8342
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: " إِذًا أَصُومُ " قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ: " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " إِذًا أُفْطِرُ وَإِنْ كُنْتُ فَرَضْتُ الصَّوْمَ " وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دوسرے دن آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ تو میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں آج افطار کر لیتا ہوں اگرچہ آج میں نے روزے کو واجب کر لیا تھا۔“
یہ سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8343
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الطيالسي»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْقَاضِي: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: فَجَاءَهُ سَلْمَانُ يَزُورُهُ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ مَا شَأْنُكِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ وَلَيْسَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا حَاجَةٌ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ، وَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَأْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، قَالَ: قُمِ الْآنَ إِنْ شِئْتَ، قَالَ: فَقَامَا فَتَوَضَّآ ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلَاةِ فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ ⦗٤٥٨⦘ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا مِثْلَ مَا قَالَ لَكَ سَلْمَانُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمان اور ابودرداء رضی اللہ عنہما میں بھائی چارہ قائم کیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ ان سے ملنے آئے تو انہوں نے اُم درداء رضی اللہ عنہا کو پراگندہ حالت میں دیکھا اور کہا: ”اے اُم درداء! تجھے کیا ہوا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”آپ کا بھائی ابودرداء صبح روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے اور اسے دنیا داری کی کوئی حاجت نہیں ہے۔“ ابودرداء رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں خوش آمدید کہا اور ان کے سامنے کھانا رکھا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کھاؤ۔“ انہوں نے کہا: ”میں روزے دار ہوں۔“ وہ کہنے لگے: ”میں تجھ پر قسم ڈالتا ہوں کہ آپ ضرور افطار کریں گے۔“ انہوں نے کہا: ”میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک تم نہ کھاؤ۔“ تو انہوں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا، پھر ان کے پاس رات گزاری۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے قیام کرنا چاہا مگر سلمان رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا اور ان سے کہا: ”اے ابودرداء! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے اور تیرے رب کا حق ہے اور تیری بیوی کا حق ہے، لہٰذا تو روزہ رکھ اور کبھی چھوڑ دے اور نماز پڑھ اور اپنی بیوی کی خبر لے اور حق والے کو اس کا حق دے۔“ جب صبح قریب ہوئی تو انہوں نے کہا: ”اٹھو! اگر چاہت ہو تو اب قیام کرو۔“ وہ کہتے ہیں: پھر وہ کھڑے ہوئے، وضو کیا، دو رکعات پڑھیں اور مسجد کی طرف نکل گئے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے تاکہ آپ ﷺ کو خبر دیں جو کچھ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابودرداء! تجھ پر تیرے جسم کا حق ہے ایسے ہی جیسے سلمان نے کہا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنَا صَائِمَةٌ، فَقَالَ: " صُمْتِ أَمْسِ؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ: " تَصُومِينَ غَدًا؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ: " فَأَفْطِرِي " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے تو میں روزے سے تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آنے والی کل کا روزہ رکھے گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو افطار کر دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8345
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى فَشَرِبَ فَنَاوَلَنِي سُؤْرَهُ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَشَرِبْتُ سُؤْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلْتُ شَيْئًا لَا أَدْرِي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ نَاوَلْتَنِي سُؤْرَكَ وَأَنَا صَائِمَةٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَمُتَطَوِّعَةٌ أَمْ قَضَاءٌ مِنْ رَمَضَانَ؟ " قُلْتُ: مُتَطَوِّعَةٌ، قَالَ: " الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو صالح، ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، آپ ﷺ نے پانی طلب کیا اور اسے پی لیا اور اپنا بچا ہوا مجھے دیا تو میں صائمہ تھی مگر میں نے پی لیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک کام کیا ہے معلوم نہیں میں نے درست کیا یا غلط؟ آپ ﷺ نے مجھے اپنا بچا ہوا پانی دیا اور میں روزے سے تھی مگر میں نے پی لیا اس لیے کہ میں نے واپس کرنا ناپسند سمجھا کہ آپ ﷺ کا بچا ہوا لوٹا لاؤں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے نفلی روزہ رکھا یا رمضان کی قضا کا؟“ میں نے کہا: نفلی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نفلی روزہ مرضی سے ہے، چاہو تو رکھ لو، چاہو تو افطار کر لو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8346
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الترمذي»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو يُونُسَ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفلی روزے رکھنے والا اپنی مرضی کا مالک ہے، اگر چاہے تو روزہ رکھے، چاہے تو افطار کر لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8347
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظرقبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ ⦗٤٥٩⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: " أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟ " فَقُلْتُ: لَا قَالَ: " فَلَا يَضُرُّكِ " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ: عَنْ هَارُونَ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ: " فَلَا يَضُرُّكِ " قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا حَدِيثَ سِمَاكٍ مِنْ كِتَابِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سماک ام ہانی رضی اللہ عنہا کے پوتے سے بیان کرتے ہیں اور وہ اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سنا، وہ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ ﷺ نے پی لیا۔ پھر مجھے دے دیا تو میں نے اس سے پی لیا حالانکہ میں روزے سے تھی۔ میں نے ناپسند کیا کہ آپ ﷺ کے بچے ہوئے کو لوٹاؤں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی تو میں نے ناپسند جانا کہ آپ ﷺ کے بچے ہوئے کو واپس لوٹاؤں، تو آپ ﷺ نے ان سے کہا: ”کیا تو قضا کر رہی تھی اپنی طرف سے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر کوئی نقصان نہیں۔“
(ابو ولید کہتے ہیں کہ ہارون نے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے کہا: ”کیا تو کسی کی قضا دے رہی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں ہے۔“)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8348
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظرقبله»
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ جَعْدَةُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ وَكَانَ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ يُحَدِّثُهُ فَيَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنَا أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُ أَنَا أَفْضَلَهُمَا جَعْدَةَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَنَاوَلَتْهُ شَرَابًا فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ " قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِجَعْدَةَ أَسَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَهْلُنَا وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ کہتے ہیں: مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے بیٹوں میں سے ایک، جعدہ نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی کہ ان کے پاس رسول اللہ ﷺ آئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو پانی دیا تو آپ ﷺ نے پیا، پھر وہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا اور انہوں نے بھی پی لیا اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں تو روزے سے تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفلی روزہ رکھنے والا امین و مختار ہوتا ہے، چاہے تو رکھے، چاہے تو افطار کر لے۔“
شعبہ کہتے ہیں: میں نے جعدہ سے کہا: کیا تم نے یہ خود ام ہانی رضی اللہ عنہا سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ہمارے گھر والوں نے اور ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو صالح نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8349
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظرقبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا: " أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟ " قَالَتْ: لَا. قَالَ: " فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی دائیں جانب، تو ایک بچی برتن میں پانی لائی اور آپ ﷺ کو پکڑا دیا۔ آپ ﷺ نے اس میں سے پیا اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دے دیا، تو انہوں نے اس میں سے پیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے افطار کر لیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تو قضا دے رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں اگر نفل تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8350
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " إِذَا أَصْبَحْتَ وَأَنْتَ تَنْوِي الصِّيَامَ فَأَنْتَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شِئْتَ صُمْتَ وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب تم صبح کرو اس حال میں کہ تم روزے کی نیت رکھتے ہو، تو پھر تمہیں دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے۔ اگر چاہو تو روزہ رکھو، اگر چاہو تو افطار کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8351
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى ⦗٤٦٠⦘ بَأْسًا أَنْ يُفْطِرَ الْإِنْسَانُ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ، وَيَضْرِبُ لِذَلِكَ أَمْثَالًا، رَجُلٌ طَافَ سَبْعًا وَلَمْ يُوفِهِ فَلَهُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ أَوْ صَلَّى رَكْعَةً وَلَمْ يُصَلِّ أُخْرَى فَلَهُ أَجْرُ مَا احْتَسَبَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی نفلی روزہ افطار کرے اور اس کی مثال بیان کرتے تھے کہ ایک آدمی نے سات چکر لگائے مگر اسے پورا نہیں کیا تو اس کے لیے اجر وہی ہے جو اس نے عمل کیا، ایک رکعت پڑھی اور دوسری نہ پڑھی تو اس کے لیے اجر ان کے مطابق ہوگا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8352
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَرَى بِالْإِفْطَارِ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ بَأْسًا.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن دینار بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نفلی روزوں کے افطار کرنے میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8353
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه الشافعي»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بِالْإِفْطَارِ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ بَأْسًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نفلی روزہ چھوڑنے میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8354
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الشافعي»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " الصَّائِمُ بِالْخِيَارِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ نِصْفِ النَّهَارِ " وَرُوِيَ هَذَا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن عبیدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: روزہ دار نصف النہار تک اختیار سے ہے۔
یہ روایت دوسری سندوں سے مرفوعاً بھی بیان کی گئی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8355
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن ابي شبيه»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوَهْيَارَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّائِمُ بِالْخِيَارِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ نِصْفِ النَّهَارِ " ⦗٤٦١⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”صائم اختیار سے ہے آدھے دن تک۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8356
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن حبان»
وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، أنبأ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ تَفَرَّدَ بِهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ الْعَنْبَرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عون بن عمارہ عنبری منفرد ہے اور وہ ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8357
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ انظر قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُزَاحِمٍ، ثنا سَرِيعُ بْنُ نَبْهَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الصَّائِمُ فِي التَّطَوُّعِ بِالْخِيَارِ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے خلیل ابو القاسم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”نفلی روزے رکھنے والا آدھے دن تک اختیار میں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8358
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُزَاحِمٍ وَسَرِيعُ بْنُ نَبْهَانَ مَجْهُوَلَانِ.
حافظ ثناء اللہ
احمد بن عبید صفار بیان کرتے ہیں کہ محمد بن فرج ازرق نے اسی سند کے ساتھ ایسی حدیث بیان کی۔
ابراہیم بن مزاحم اور سریع بن نبہان دونوں مجہول ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8359
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ انظر قبله»