أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ " وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا، وَتَابَعَهُ عَبْدُ الْوَارِثِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، سو نہ تم روزہ رکھو حتیٰ کہ اسے دیکھ نہ لو اور جب تک دیکھ نہ لو افطار بھی نہ کرو۔ اگر تم پر بادل وغیرہ چھا جائیں تو تیس کی تعداد پوری کرو۔ تمہاری عید الفطر کا دن وہی ہوگا جس دن تم افطار کرو گے اور تمہارے اضحی کا دن وہ ہے جس دن قربانی کرو گے اور تمام عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا منیٰ نحر کی جگہ ہے اور مکہ کی ہر گلی نحر کی جگہ ہے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا ابْنُ سَوَاءٍ، أنبأ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ " ثُمَّ ذَكَرَا مِثْلَهُ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "، وَرُوِيَ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے نظر آنے پر روزہ رکھو“، پھر ایسے ہی آخر تک حدیث بیان کی اور اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَخْنَسِيِّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَوْمُكُمْ يَوْمَ تَصُومُونَ، وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے روزے کا دن وہی ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو اور تمہاری قربانی کا دن وہ ہے جس میں تم قربانی کرتے ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ: " اسْقُوا مَسْرُوقًا سَوِيقًا، وَأَكْثِرُوا حَلْوَاهُ "، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَصُومَ الْيَوْمَ إِلَّا أَنِّي خِفْتُ أَنْ يَكُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " النَّحْرُ يَوْمَ يَنْحَرُ النَّاسُ، وَالْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ النَّاسُ ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یومِ عرفہ کو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: مسروق کو ستو پلاؤ اور میٹھا زیادہ ڈالنا، فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ انہوں نے مجھے اس دن کے روزے سے منع نہیں کیا، مگر میں ڈرا کہ شاید آج یومِ نحر ہو تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نحر وہ ہے جس دن لوگ قربانی کرتے ہیں اور فطر وہ ہے جس دن لوگ افطار کرتے ہیں۔