السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: القوم يخطئون في رؤية الهلال باب: لوگوں کا چاند دیکھنے میں غلطی کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8206
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ " وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا، وَتَابَعَهُ عَبْدُ الْوَارِثِ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، سو نہ تم روزہ رکھو حتیٰ کہ اسے دیکھ نہ لو اور جب تک دیکھ نہ لو افطار بھی نہ کرو۔ اگر تم پر بادل وغیرہ چھا جائیں تو تیس کی تعداد پوری کرو۔ تمہاری عید الفطر کا دن وہی ہوگا جس دن تم افطار کرو گے اور تمہارے اضحی کا دن وہ ہے جس دن قربانی کرو گے اور تمام عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا منیٰ نحر کی جگہ ہے اور مکہ کی ہر گلی نحر کی جگہ ہے۔“