السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: القوم يخطئون في رؤية الهلال باب: لوگوں کا چاند دیکھنے میں غلطی کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8209
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَتْ: " اسْقُوا مَسْرُوقًا سَوِيقًا، وَأَكْثِرُوا حَلْوَاهُ "، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّي لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَصُومَ الْيَوْمَ إِلَّا أَنِّي خِفْتُ أَنْ يَكُونَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: " النَّحْرُ يَوْمَ يَنْحَرُ النَّاسُ، وَالْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ النَّاسُ ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یومِ عرفہ کو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو انہوں نے فرمایا: مسروق کو ستو پلاؤ اور میٹھا زیادہ ڈالنا، فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ انہوں نے مجھے اس دن کے روزے سے منع نہیں کیا، مگر میں ڈرا کہ شاید آج یومِ نحر ہو تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نحر وہ ہے جس دن لوگ قربانی کرتے ہیں اور فطر وہ ہے جس دن لوگ افطار کرتے ہیں۔