کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مہینہ انتیس دن کا نکلے تو ان کے روزے مکمل سمجھے جائیں گے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ عُمَرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا " يَعْنِي ثَلَاثِينَ، ثُمَّ قَالَ: " وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا "، وَضَمَّ إِبْهَامَهُ، يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ، يَقُولُ مَرَّةً ثَلَاثِينَ، وَمَرَّةً تِسْعًا وَعِشْرِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہم ان پڑھ لوگ ہیں، نہ ہم لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی حساب کر سکتے ہیں اور مہینہ ایسے ایسے ہوتا ہے، یعنی تیس دن کا۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسے، ایسے، ایسے ہوتا ہے“ اور اپنے انگوٹھے کو بند کر لیا، یعنی انتیس کا۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ انتیس دن اور دوسری مرتبہ تیس دن کا فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَامِدُ بْنُ سَهْلٍ الثَّغْرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ ⦗٤٢٠⦘ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ: قِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَيَكُونُ شَهْرُ رَمَضَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؟ فَقَالَتْ: " مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ ثَلَاثِينَ " وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ سے کہا گیا: اے ام المؤمنین! کیا رمضان کا مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیس دن سے زیادہ انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: " مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیس روزوں سے زیادہ انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ سُوَيْدٍ، وَخَالِدًا الْحَذَّاءَ، يُحَدِّثَانِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ، رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ وَالْمُرَادُ بِالْحَدِيثِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّهُمَا وَإِنْ خَرَجَا تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَهُمَا كَامِلَانِ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِهِمَا مِنَ الْأَحْكَامِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے: رمضان اور ذوالحجہ۔“
اس حدیث سے مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ یہ دونوں مہینے اگرچہ انتیس دن کے ہوں، تب بھی ان سے متعلق احکام میں یہ کامل ہیں۔
اس حدیث سے مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ یہ دونوں مہینے اگرچہ انتیس دن کے ہوں، تب بھی ان سے متعلق احکام میں یہ کامل ہیں۔