کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا بیان کہ جب وہ اپنے بچوں کے بارے میں خوف زدہ ہوں تو روزہ چھوڑ دیں اور ہر دن کے بدلے ایک مد گندم صدقہ کریں، پھر قضا کریں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " رُخَّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ، وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا، وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]، وَثَبِتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ، وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " لَفْظُ حَدِيثِ مَكِّيٍّ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ: وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ بوڑھے بزرگ اور بوڑھی عورت کو اس میں رخصت دی گئی ہے اگرچہ وہ دونوں روزے کی طاقت رکھتے ہوں، انہیں افطار کی رخصت ہے اگر وہ چاہیں تو ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ پھر یہ اجازت منسوخ کر دی گئی اس آیت ﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [سورة البقرة: 185] سے۔ پھر بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اجازت رہ گئی، جب وہ روزے کی طاقت نہ رکھیں، حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ڈر محسوس کریں تو افطار کر لیں اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ ایک روایت میں «حُبْلَىٰ» کے الفاظ ہیں۔
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا عَلَى أَوْلَادِهِمَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا " أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی عدی رحمہ اللہ، سعید رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث میں بیان کیا کہ: ”حاملہ اور دودھ پلانے والی جب اپنے بچوں کے بارے میں ڈریں تو افطار کر لیں اور مساکین کو کھلا دیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا، فَقَالَ: " تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ" زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَرَوْنَ عَلَيْهَا مَعَ ذَلِكَ الْقَضَاءَ، قَالَ مَالِكٌ: عَلَيْهَا الْقَضَاءُ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ أَوِ ابْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ امْرَأَةً صَامَتْ حَامِلًا فَاسْتَعْطَشَتْ فِي رَمَضَانَ، فَسُئِلَ عَنْهَا ابْنُ عُمَرَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا، ثُمَّ لَا يُجْزِئُهَا، فَإِذَا صَحَّتْ قَضَتْهُ، ذَكَرَهُ أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ. وَهَذَا قَوْلُ مُجَاهِدٍ: تُفْطِرُ، وَتُطْعِمُ، وَتَقْضِي، وَفِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ: تُفْطِرَانِ وَتَقْضِيَانِ. وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ: الْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتْ أَفْطَرَتْ وَأَطْعَمَتْ، وَالْحَامِلُ إِذَا خَافَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَفْطَرَتْ وَقَضَتْ كَالْمَرِيضِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب وہ اپنے بچے کے بارے میں ڈرے تو انہوں نے کہا: افطار کرے اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلا دے، اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور مسکین کو کھلائے گی، مگر حاملہ جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور قضا کرے گی مریضہ کی طرح۔
(امام شافعی رحمہ اللہ اور مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اہل علم بھی کہتے ہیں کہ اس پر قضا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن عیاض رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسے پیاس لگی، اس کے متعلق ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو انہوں نے افطار کا حکم دیا اور ایک مسکین کو کھلانے کا)۔
(امام شافعی رحمہ اللہ اور مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اہل علم بھی کہتے ہیں کہ اس پر قضا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن عیاض رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسے پیاس لگی، اس کے متعلق ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو انہوں نے افطار کا حکم دیا اور ایک مسکین کو کھلانے کا)۔