السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الحامل والمرضع إذا خافتا على ولديهما أفطرتا وتصدقتا عن كل يوم بمد حنطة ثم قضتا باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا بیان کہ جب وہ اپنے بچوں کے بارے میں خوف زدہ ہوں تو روزہ چھوڑ دیں اور ہر دن کے بدلے ایک مد گندم صدقہ کریں، پھر قضا کریں۔
حدیث نمبر: 8077
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " رُخَّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ، وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا، وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥]، وَثَبِتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ، وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " لَفْظُ حَدِيثِ مَكِّيٍّ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ: وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ بوڑھے بزرگ اور بوڑھی عورت کو اس میں رخصت دی گئی ہے اگرچہ وہ دونوں روزے کی طاقت رکھتے ہوں، انہیں افطار کی رخصت ہے اگر وہ چاہیں تو ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ پھر یہ اجازت منسوخ کر دی گئی اس آیت ﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [سورة البقرة: 185] سے۔ پھر بوڑھے مرد اور عورت کے لیے اجازت رہ گئی، جب وہ روزے کی طاقت نہ رکھیں، حاملہ اور دودھ پلانے والی جب ڈر محسوس کریں تو افطار کر لیں اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلائیں۔ ایک روایت میں «حُبْلَىٰ» کے الفاظ ہیں۔