السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: الحامل والمرضع إذا خافتا على ولديهما أفطرتا وتصدقتا عن كل يوم بمد حنطة ثم قضتا باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کا بیان کہ جب وہ اپنے بچوں کے بارے میں خوف زدہ ہوں تو روزہ چھوڑ دیں اور ہر دن کے بدلے ایک مد گندم صدقہ کریں، پھر قضا کریں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا، فَقَالَ: " تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ" زَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَرَوْنَ عَلَيْهَا مَعَ ذَلِكَ الْقَضَاءَ، قَالَ مَالِكٌ: عَلَيْهَا الْقَضَاءُ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ أَوِ ابْنِ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ أَنَّ امْرَأَةً صَامَتْ حَامِلًا فَاسْتَعْطَشَتْ فِي رَمَضَانَ، فَسُئِلَ عَنْهَا ابْنُ عُمَرَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تُفْطِرَ وَتُطْعِمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا، ثُمَّ لَا يُجْزِئُهَا، فَإِذَا صَحَّتْ قَضَتْهُ، ذَكَرَهُ أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ. وَهَذَا قَوْلُ مُجَاهِدٍ: تُفْطِرُ، وَتُطْعِمُ، وَتَقْضِي، وَفِي رِوَايَةِ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ: تُفْطِرَانِ وَتَقْضِيَانِ. وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ: الْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتْ أَفْطَرَتْ وَأَطْعَمَتْ، وَالْحَامِلُ إِذَا خَافَتْ عَلَى نَفْسِهَا أَفْطَرَتْ وَقَضَتْ كَالْمَرِيضِ.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب وہ اپنے بچے کے بارے میں ڈرے تو انہوں نے کہا: افطار کرے اور ہر دن کے عوض مسکین کو کھلا دے، اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دودھ پلانے والی جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور مسکین کو کھلائے گی، مگر حاملہ جب ڈرے گی تو افطار کرے گی اور قضا کرے گی مریضہ کی طرح۔
(امام شافعی رحمہ اللہ اور مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اہل علم بھی کہتے ہیں کہ اس پر قضا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] شیخ فرماتے ہیں کہ انس بن عیاض رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسے پیاس لگی، اس کے متعلق ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو انہوں نے افطار کا حکم دیا اور ایک مسکین کو کھلانے کا)۔