کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں اس دن کی جگہ ایک دن قضا کرنے کے حکم کو بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مَرْوَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " اقْضِ يَوْمًا مَكَانَهُ " وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَإِبْرَاهِيمُ سَمِعَ الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، فَذَكَرَهَا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهَا أَيْضًا أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اس کی جگہ ایک دن کی قضا کر۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الَّذِي يُفْطِرُ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا مَكَانَهُ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ”اس شخص کو ایک روزے کی قضا کا حکم دیا جس نے رمضان میں روزہ توڑا تھا“۔
عبدالجبار بن عمر ایلی نے بھی اسے زہری سے روایت کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔
عبدالجبار بن عمر ایلی نے بھی اسے زہری سے روایت کیا ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْتِفُ شَعْرَ رَأْسِهِ، وَيَدُقُّ صَدْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلَاكًا مَاذَا؟ " قَالَ: إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي الْيَوْمَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ رَقَبَةٌ تُعْتِقُهَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِعَرَقٍ عَظِيمٍ فِيهِ صَدَقَةُ مَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ السَّائِلُ؟ " قَالُوا: قَدِ انْصَرَفَ، قَالَ: " عَلَيَّ بِهِ "، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ كَفَّارَةً لِمَا ⦗٣٨٢⦘ صَنَعْتَ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَى أَحْوَجَ مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحْوَجُ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: " فَكُلْ وَأَطْعِمْ أَهْلَ بَيْتِكَ، وَاقْضِ يَوْمًا مَكَانَهُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جو بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہلاکت کس وجہ سے؟“ اس نے کہا: آج میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا اور یہ رمضان ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس غلام ہے کہ تو اسے آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ پھر وہ آدمی پلٹ گیا تو لوگوں میں سے ایک اپنے مال کا صدقہ لے کر کھجوروں کا بڑا ٹوکرا لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ پھر گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ ایک آدمی اسے لایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دو جو تو نے کیا اس کا کفارہ ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے زیادہ محتاج پر؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں اور میرے گھر والوں سے، تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں نظر آگئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے لو اور اپنے اہل کو کھلا دو اور اس کی ایک دن کی قضا کرو۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔
یہ بات عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث میں بھی مروی ہے۔
یہ بات عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث میں بھی مروی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيَدْعُو وَيْلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ مَا لَكَ " قَالَ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، قَالَ: لَا أَجِدُهَا، قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ: " كُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، ایک آدمی اپنے بال نوچتا ہوا اور ویل بکتا ہوا نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر دے۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، پھر آپ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے اور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔“ اس نے کہا: یا نبی اللہ! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو اور تیرا عیال کھاؤ۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الْوَاقِعِ، وَزَادَ فِيهِ: قَالَ عَمْرٌو: وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْضِيَ يَوْمًا مَكَانَهُ وَرَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَقَالَ: زَادَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا مَكَانَهُ، وَرَوَاهُ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ فِي إِسْنَادِهِ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی حدیث نقل فرماتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اسی طرح ہے مگر عمرو نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ”اسے ایک دن کی قضا کا حکم دیا۔“
یحییٰ بن ابی طالب نے یزید بن ہارون کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے ان الفاظ کی زیادتی کی ہے کہ ”اسے اس کے عوض ایک روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“
یحییٰ بن ابی طالب نے یزید بن ہارون کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے ان الفاظ کی زیادتی کی ہے کہ ”اسے اس کے عوض ایک روزہ رکھنے کا حکم دیا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزُّبَيْرِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ⦗٣٨٣⦘ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، قَالَ: لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَجِدُ أَحْوَجَ إِلَى هَذَا مِنِّي وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ: " كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ، وَاسْتَغْفَرِ اللهَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جو رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں اس کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔“ اور اس نے کہا: میں نہیں پاتا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! میں نہیں پاتا جو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ اس کا محتاج ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کھا اور تیرے گھر والے کھائیں، اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ لینا اور استغفار کر۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيُضْرَبُ نَحْرُهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْلِسْ "، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ: " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ "، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ: " فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ " قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَطَاءٍ، وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَطَاءٍ بِزِيَادَةِ ذِكْرِ صَوْمِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْقَضَاءَ وَلَا قَدْرَ الْعَرَقِ، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى الْأَحَادِيثِ الْمَوْصُولَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ اس نے کہا: رمضان میں میں اپنی بیوی کو جا پہنچا اور میں روزے سے تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ اونٹ کی قربانی دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر بیٹھ جا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو کھا اور ایک دن کا روزہ رکھ اس کی وجہ سے جو تو نے کیا ہے۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں تو انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع تک۔ داؤد بن ابی ہند نے اسے عطاء سے دو مہینے کے متواتر روزوں کے اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر اس میں قضا اور ٹوکرے کی مقدار کا تذکرہ نہیں کیا۔
یہ سعید بن مسیب سے دیگر سندوں سے بھی مروی ہے اور ان پر حدیث کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور اعتماد موصول احادیث پر ہے۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں تو انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع تک۔ داؤد بن ابی ہند نے اسے عطاء سے دو مہینے کے متواتر روزوں کے اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر اس میں قضا اور ٹوکرے کی مقدار کا تذکرہ نہیں کیا۔
یہ سعید بن مسیب سے دیگر سندوں سے بھی مروی ہے اور ان پر حدیث کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور اعتماد موصول احادیث پر ہے۔