حدیث نمبر: 8058
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ کے پاس ایک شخص آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور اپنی ہلاکت و بربادی کی دہائی دے رہا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «وَيْحَكَ مَا لَكَ ؟» ”افسوس تم پر! تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: اس بدنصیب نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» ”ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے کہا: میں اسے نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» ”پس دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔“ اس نے کہا: میں (اس کی) طاقت نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» ”پس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے کہا: میں (اس کی بھی) گنجائش نہیں پاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «خُذْ هَذَا فَأَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا» ”اسے لے لو اور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان دونوں پہاڑوں (مدینہ کی کالی پتھریلی زمینوں) کے درمیان کوئی ایسا گھرانہ نہیں ہے جو ہم سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «كُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ» ”تم اور تمہارے اہل و عیال اسے کھا لو۔“ [حسن لغیرہ۔ اسے احمد نے تخریج کیا ہے]

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8058