حدیث نمبر: 8062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيُضْرَبُ نَحْرُهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاجْلِسْ "، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ: " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ "، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ: " فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ " قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَطَاءٍ، وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَطَاءٍ بِزِيَادَةِ ذِكْرِ صَوْمِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْقَضَاءَ وَلَا قَدْرَ الْعَرَقِ، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى الْأَحَادِيثِ الْمَوْصُولَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ اس نے کہا: رمضان میں میں اپنی بیوی کو جا پہنچا اور میں روزے سے تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ اونٹ کی قربانی دے؟“ اس نے کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر بیٹھ جا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو کھا اور ایک دن کا روزہ رکھ اس کی وجہ سے جو تو نے کیا ہے۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں تو انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع تک۔ ابوداؤد بن ہند سے بیان کیا ہے وہ دو مہینے کے متواتر روزے ہیں مگر اس میں قضاء اور وزن کا تذکرہ نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8062
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه مالك»