کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث کو رمضان کے روزے میں جماع کے وقوع کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ یہ واقعہ ظہار کرنے والے کے واقعے کے علاوہ ہے، کیونکہ ظہار کرنے والے کا جماع رات کے وقت چاندنی میں ہوا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ " فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا، خُذْ هَذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ، أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: روزے کی حالت میں میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو غلام رکھتا ہے کہ اسے آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ابھی آپ ﷺ کے پاس ہی تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کہا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادہ محتاج کون ہے؟ اللہ کی قسم! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان میرے اہل سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ مسکرا دیے اور آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اور فرمایا: ”جا اپنے اہل کو کھلا دے۔“
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْثَدٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ: " وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ "؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ: " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا "، قَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ: " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ "، قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي، فَوَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنْ أَهْلِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَالَ: " خُذْهُ وَاسْتَغْفَرِ اللهَ، وَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْهَقْلُ بْنُ زِيَادٍ، وَمَسْرُورُ بْنُ صَدَقَةَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ جَعَلَ قَوْلَهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَأَدْرَجَهُ هِقْلٌ وَمَسْرُورٌ فِي الْحَدِيثِ، كَمَا أَخْرَجَهُ دُحَيْمٌ عَنِ الْوَلِيدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! وہ کیسے؟“ تو اس نے کہا: میں رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، تو آپ ﷺ کے پاس کھجور کا ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع ہوں گے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے جا اور صدقہ کر۔“ اس نے کہا: اپنے اہل سے زیادہ محتاجوں پر؟ اللہ کی قسم! ان دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔ آپ ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لے اور استغفار کر اور اپنے اہل کو ہی کھلا دے۔“ البتہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے پندرہ صاع والی بات کو عمرو بن شعیب کی روایت سے قرار دیا ہے، جبکہ ہقل اور مسرور نے اسے حدیث میں شامل کر دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الرَّازِيُّ وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجَادِ بْنِ يَزِيدَ، ابْنُ أَخِي يُونُسَ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ ⦗٣٧٩⦘ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ وَمَا ذَاكَ؟ " قَالَ: إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَهَلْ تَجِدُ طَعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: " أَيْنَ الرَّجُلُ آنِفًا، خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَغَيْرُهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَاتَّفَقَتْ رِوَايَةُ جَمَاعَتِهِمْ، وَرِوَايَةُ مَنْ سَمَّيْنَاهُمْ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَلَى أَنَّ فِطْرَ الرَّجُلِ وَقَعَ بِجِمَاعٍ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْكَفَّارَةِ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي يَقْتَضِي التَّرْتِيبَ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَيَّدًا بَالْوَطْءِ فِي رَمَضَانَ نَهَارًا.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! وہ کیسے؟“ اس نے کہا: ”میں رمضان میں روزے سے تھا اور اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس غلام ہے جو تو آزاد کر دے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے متواتر روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلانے کی گنجائش رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اسی حالت میں بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی جو آدمی تھا وہ کہاں ہے؟“ اور فرمایا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول ﷺ! جو مجھ سے زیادہ محتاج ہیں ان پر؟ اللہ کی قسم! دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں۔“ تو آپ ﷺ مسکرا دیے حتیٰ کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو کھلا دے۔“
دیگر راویوں نے بھی زہری سے اسی معنی میں روایت کیا ہے، اور ان سب کی روایت اور ان راویوں کی روایت جن کا نام ہم نے پچھلے باب میں لیا ہے، اس پر متفق ہے کہ آدمی کا افطار جماع کی وجہ سے ہوا تھا اور نبی کریم ﷺ نے کفارے کا حکم ایسے الفاظ میں دیا جو ترتیب کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث رمضان میں دن کے وقت جماع کے ساتھ مقید مروی ہے۔
دیگر راویوں نے بھی زہری سے اسی معنی میں روایت کیا ہے، اور ان سب کی روایت اور ان راویوں کی روایت جن کا نام ہم نے پچھلے باب میں لیا ہے، اس پر متفق ہے کہ آدمی کا افطار جماع کی وجہ سے ہوا تھا اور نبی کریم ﷺ نے کفارے کا حکم ایسے الفاظ میں دیا جو ترتیب کا تقاضا کرتے ہیں۔ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث رمضان میں دن کے وقت جماع کے ساتھ مقید مروی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْجُوَيْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الرُّمْحِ، أنبأ اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: احْتَرَقْتُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِمَ " قَالَ: وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا، قَالَ: " تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ " قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ، فَجَاءَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ، لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ، وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَجَاءَهُ عَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ. وَرِوَايَةُ ابْنِ بُكَيْرٍ فِي الْعَرَقِ أَصَحُّ لِمُوَافَقَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ اللَّيْثِ، وَرِوَايَةُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں ہلاک ہو گیا، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں بھئی؟“ اس نے کہا: رمضان میں دن کے وقت صحبت کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کر صدقہ۔“ اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے بیٹھنے کو کہا، پھر آپ ﷺ کے پاس دو ٹوکریاں لائی گئیں جن میں کھانا تھا، آپ ﷺ نے ان کا صدقہ کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ٹھہرنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ کے پاس کھانے کی ایک ٹوکری آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو صدقہ کر دے۔“
ٹوکری کے بارے میں ابن بکیر کی روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ لیث سے مروی باقی تمام روایات کے اور یحییٰ بن سعید سے عبدالوہاب ثقفی اور یزید بن ہارون کی روایت کے موافق ہے۔
ٹوکری کے بارے میں ابن بکیر کی روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ لیث سے مروی باقی تمام روایات کے اور یحییٰ بن سعید سے عبدالوہاب ثقفی اور یزید بن ہارون کی روایت کے موافق ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، حدَّثَهُمْ، قَالَ: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَتَيْتُ أَهْلِيَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ كَفَّارَةَ الظِّهَارِ، ⦗٣٨٠⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ الْقُرَشِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اپنے بال نوچ رہا تھا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! میں رمضان میں اپنی بیوی کے پاس آیا ہوں“ تو آپ ﷺ نے اسے کفارہِ ظہار ادا کرنے کا حکم دیا۔