کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی، پھر ظاہر ہوا کہ وہ طلوع ہو چکی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا خَالِدٌ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا وَقَدِ اطَّلَعَ الْفَجْرُ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ " ⦗٣٦٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور سمجھا کہ ابھی رات ہے، جبکہ فجر طلوع ہوچکی ہو تو انہوں نے کہا: جس نے دن کے شروع میں کھایا وہ اس کے آخر میں بھی کھائے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشیم، منصور سے روایت کرتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے ایسے ہی بیان کیا۔
قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ: " يُتِمُّ صَوْمَهُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے کہا: ”وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی حرج نہیں۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا، وَقَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ: " إِنْ كَانَ شَهْرُ رَمَضَانَ صَامَهُ وَقَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ، فَقَدْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِهِ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ، وَعَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَقَوْلُ مَنْ قَالَ يَقْضِي أَصَحُّ؛ لِمَا مَضَى مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى وُجُوبِ الصَّوْمِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ، مَعَ مَا رُوِّينَا فِي هَذَا الْبَابِ مِنَ الْأَثَرِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور وہ سمجھا کہ رات ہے حالانکہ فجر طلوع ہو چکی ہو تو انہوں نے فرمایا: اگر رمضان کا مہینہ تھا تو وہ روزہ پورا کرے گا اور قضا بھی دے گا۔ اگر رمضان کے علاوہ کی بات ہے تو وہ اس کے آخر میں بھی کھائے جس نے شروع میں کھایا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول جیسا اور مجاہد رحمہ اللہ سے حسن رحمہ اللہ کے قول جیسا قول بیان کیا گیا ہے، اور جو قضا کے قائل ہیں ان کا قول زیادہ صحیح ہے، ان دلائل کی بنا پر جو طلوع فجر کے وقت سے روزہ واجب ہونے کے بارے میں گزر چکے ہیں، نیز اس اثر کی بنا پر جو ہم نے اس باب میں بیان کیا ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کے قول جیسا اور مجاہد رحمہ اللہ سے حسن رحمہ اللہ کے قول جیسا قول بیان کیا گیا ہے، اور جو قضا کے قائل ہیں ان کا قول زیادہ صحیح ہے، ان دلائل کی بنا پر جو طلوع فجر کے وقت سے روزہ واجب ہونے کے بارے میں گزر چکے ہیں، نیز اس اثر کی بنا پر جو ہم نے اس باب میں بیان کیا ہے۔ اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔