کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جس نے یہ گمان کرتے ہوئے کھا لیا کہ فجر طلوع نہیں ہوئی، پھر ظاہر ہوا کہ وہ طلوع ہو چکی تھی۔
حدیث نمبر: 8007
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: ثنا خَالِدٌ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا وَقَدِ اطَّلَعَ الْفَجْرُ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ " ⦗٣٦٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جزار فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور سمجھا کہ ابھی رات ہے، جبکہ فجر طلوع ہوچکی ہو تو انہوں نے کہا: جس نے دن کے شروع میں کھایا وہ اس کے آخر میں بھی کھائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8007
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله ثقات»
حدیث نمبر: 8008
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشیم، منصور سے روایت کرتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے ایسے ہی بیان کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8008
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله ثقات»
حدیث نمبر: 8009
قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ: " يُتِمُّ صَوْمَهُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جزار بیان کرتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ نے کہا: ”وہ روزہ پورا کرے اور اس پر کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8009
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم سنده»
حدیث نمبر: 8010
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدٌ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ مِنْ أَهْلِ دِمَشْقَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ رَجُلٍ تَسَحَّرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا، وَقَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ: " إِنْ كَانَ شَهْرُ رَمَضَانَ صَامَهُ وَقَضَى يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيَأْكُلْ مِنْ آخِرِهِ، فَقَدْ أَكَلَ مِنْ أَوَّلِهِ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ سِيرِينَ، وَعَنْ مُجَاهِدٍ مِثْلَ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَقَوْلُ مَنْ قَالَ يَقْضِي أَصَحُّ؛ لِمَا مَضَى مِنَ الدَّلَالَةِ عَلَى وُجُوبِ الصَّوْمِ مِنْ وَقْتِ طُلُوعِ الْفَجْرِ، مَعَ مَا رُوِّينَا فِي هَذَا الْبَابِ مِنَ الْأَثَرِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سحری کی اور وہ سمجھا کہ رات ہے حالانکہ فجر طلوع ہو چکی ہو تو انہوں نے فرمایا: اگر رمضان کا مہینہ تھا تو وہ روزہ پورا کرے گا اور قضا بھی دے گا۔ اگر رمضان کے علاوہ کی بات ہے تو وہ اس کے آخر میں بھی کھائے جس نے شروع میں کھایا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ابن سیرین رحمہ اللہ کی سی بات بیان کی گئی ہے کہ اس کا قضا دینا زیادہ صحیح ہے اس اعتبار سے جو دلائل گزر چکے ہیں طلوع فجر کے وقت روزہ واجب ہونے کے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8010
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»