کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: رمضان کا چاند دیکھنے پر گواہی دینے کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے رمضان کا چاند دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اقرار کرتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7973
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداؤد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ولید ابن ابی ثور رحمہ اللہ نے سماک سے ایسی ہی حدیث نقل کی مگر انہوں نے یہ نہیں کہا: «هِلَالَ رَمَضَانَ»۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7974
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٥٧⦘ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ هِلَالِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَادَى: " أَنْ صُومُوا "، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ غَيْرُهُمَا عَنِ الثَّوْرِيِّ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رمضان کے چاند کی رات نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم روزہ رکھو۔“
اسی طرح ابو عاصم نے ثوری سے اسے موصولاً روایت کیا ہے، جبکہ دوسروں نے ثوری سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7975
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارٍيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ حَمَّادٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سماک عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کے چاند میں شک ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ قیام نہیں کریں گے اور روزہ بھی نہیں رکھیں گے، تو ایک دیہاتی حرہ سے آیا اور آکر گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اقرار کرتا ہے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اور «أَنِّي رَسُولُ اللهِ» ”میں اللہ کا رسول ہوں“؟“ اس نے کہا: ہاں، اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اعلان کیا کہ لوگ قیام کریں اور روزہ رکھیں۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد ]
ابو داؤد کہتے ہیں: ایک جماعت نے اسے سماک سے، انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور قیام کا ذکر حماد بن سلمہ کے سوا کسی نے نہیں کیا۔ شیخ فرماتے ہیں: حماد کی حدیث کو ابو داؤد نے موسیٰ سے، انہوں نے حماد سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7976
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ مَرَّةً.
حافظ ثناء اللہ
سماک، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے مرہ کا تذکرہ نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7977
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ انظر مامعنيٰ»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ يُعَدُّ فِي أَفْرَادِ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيِّ، رَوَاهُ عَنْهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن نافع رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ لوگوں نے چاند دیکھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
علی بن عمر حافظ فرماتے ہیں: اس روایت کو ابن وہب سے بیان کرنے میں مروان بن محمد اکیلے ہیں اور وہ ثقہ ہیں۔ یہ حدیث مروان بن محمد دمشقی کی منفرد روایات میں شمار ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7978
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَصَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یحییٰ نے خبر دی اور ایسی ہی حدیث کا تذکرہ کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7979
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْأُبُلِّيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَمِسْعَرٌ، فَذَكَرَهُ وَهَذَا مِمَّا لَا يَنْبَغِي أَنْ يُحْتَجَّ بِهِ، وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حفص بن عمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عوانہ اور مسعر نے ایسی ہی حدیث بیان کی اور یہ ایسی روایت ہے جس سے حجت پکڑنا مناسب نہیں اور جو روایات گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7980
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل۔ اخرجه الطبراني»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا شَهِدَ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ، فَصَامَ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا، وَقَالَ: " أَصُومُ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان رحمہ اللہ اپنی ماں فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے روزہ رکھا اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ رکھیں اور کہا کہ شعبان کے ایک دن کا روزہ رکھنا رمضان کا ایک روزہ چھوڑنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7981
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الشافعي»