حدیث نمبر: 7973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے رمضان کا چاند دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اقرار کرتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل روزہ رکھیں۔“
حدیث نمبر: 7974
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ولید ابن ابی ثور رحمہ اللہ نے سماک سے ایسی ہی حدیث نقل کی مگر انہوں نے یہ نہیں کہا: «هِلَالَ رَمَضَانَ»۔
حدیث نمبر: 7975
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٥٧⦘ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ هِلَالِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَادَى: " أَنْ صُومُوا "، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ عَنِ الثَّوْرِيِّ مَوْصُولًا، وَرَوَاهُ غَيْرُهُمَا عَنِ الثَّوْرِيِّ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رمضان کے چاند کی رات نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم روزہ رکھو۔“
حدیث نمبر: 7976
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارٍيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ الْحَرَّةِ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ " قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ حَمَّادٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُوسَى عَنْ حَمَّادٍ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سماک عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کے چاند میں شک ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ قیام نہیں کریں گے اور روزہ بھی نہیں رکھیں گے، تو ایک دیہاتی حرہ سے آیا اور آکر گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، تو اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اقرار کرتا ہے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اور «أَنِّي رَسُولُ اللهِ» ”میں اللہ کا رسول ہوں“؟“ اس نے کہا: ہاں، اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اعلان کیا کہ لوگ قیام کریں اور روزہ رکھیں۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداؤد ]
حدیث نمبر: 7977
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي كِتَابِ الْمُسْتَدْرَكِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ مَرَّةً.
حافظ ثناء اللہ
سماک، عکرمہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے مرہ کا تذکرہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 7978
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ: تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا الْحَدِيثُ يُعَدُّ فِي أَفْرَادِ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيِّ، رَوَاهُ عَنْهُ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن نافع رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ لوگوں نے چاند دیکھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 7979
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَصَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالصِّيَامِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یحییٰ نے خبر دی اور ایسی ہی حدیث کا تذکرہ کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا“۔
حدیث نمبر: 7980
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ الدُّورِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْأُبُلِّيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، وَمِسْعَرٌ، فَذَكَرَهُ وَهَذَا مِمَّا لَا يَنْبَغِي أَنْ يُحْتَجَّ بِهِ، وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حفص بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو عوانہ اور مسعر نے ایسی ہی حدیث بیان کی اور یہ ایسی بات ہے جس پر حجت لینے کی ضرورت نہیں اور جس میں یہ روایت بیان ہوئی وہ کافی ہے۔
حدیث نمبر: 7981
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا شَهِدَ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ، فَصَامَ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا، وَقَالَ: " أَصُومُ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان رحمہ اللہ اپنی ماں فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی دی اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ رکھیں اور کہا کہ شعبان کے ایک دن کا روزہ رکھنا رمضان کا ایک روزہ چھوڑنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔