کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان صحابہ کرام کا بیان جنھوں نے یومِ شک کا روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
حدیث نمبر: 7971
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُوسَى مَوْلًى لِبَنِي نَصْرٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْيَوْمِ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَالَتْ: " لَأَنْ أَصُومَ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ " ⦗٣٥٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ رَوْحٍ، وَفِي رِوَايَةِ يَزِيدَ: عَنِ الشَّهْرِ إِذَا غُمَّ، وَلَمْ يَقُلْ مَوْلًى لِبَنِي نَصْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دن کے روزے کے بارے میں سوال کیا جس میں شک ہو، تو انہوں نے فرمایا کہ شعبان کے ایک دن کا روزہ رکھنا مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں رمضان کا روزہ ترک کر دوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7971
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد»
حدیث نمبر: 7972
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ فِنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ بِالدَّامِغَانِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنْبَةَ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي الْحَضْرَمِيَّ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ ضُرَيْسٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تَصُومُ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت منذر رحمہا اللہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ رمضان میں شک کے دن کا روزہ رکھا کرتی تھیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں شک کا روزہ رکھوں یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے کہ میں رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دوں، اس لیے کہ اس سے مراد ایامِ بیض کے روزے ہیں۔ لیکن جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تو انہوں نے یہ بات آدمی کے چاند دیکھنے کی گواہی پر کہی ہے اور یزید بن ہارون کی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذہب کے بارے میں ہے۔ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا روزے میں مذہب ہے کہ جب بادل چھا جائیں اور مطلع صاف نہ ہو تو یہ سنت ثابتہ کی اتباع ہے جس پر اکثر صحابہ اور عوام ہیں اور اہل علم بھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7972