أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرُ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ: إِنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ، " فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تُمْسُوا، إِلَّا أَنْ يَشْهَدَ رَجُلَانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا أَهَلَّاهُ بِالْأَمْسِ عَشِيَّةً " هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا جبکہ ہم خانقین میں تھے (اس میں لکھا تھا) کہ چاند ایک دوسرے سے بڑے ہوتے ہیں، لہٰذا جب تم دن میں چاند دیکھو تو روزہ نہ افطار کرو، یہاں تک کہ شام ہو جائے یا پھر دو مسلمان گواہی دیں کہ کل انہوں نے شام میں چاند کو دیکھا تھا۔
وَرَوَاهُ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، فَزَادَ فِيهِ: " فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ أَوَّلَ النَّهَارِ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلَانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا أَهَلَّاهُ بِالْأَمْسِ عَشِيَّةً أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ فَذَكَرَهُ. ⦗٣٥٩⦘ قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: إِنْ كَانَ مُؤَمَّلٌ حَفِظَهُ فَهُوَ غَرِيبٌ، وَخَالَفَهُ إِمَامُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا اللَّفْظُ قَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ.
حافظ ثناء اللہ
مؤمل بن اسماعیل، سفیان رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں اور (مؤمل نے) اس میں یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ: ”جب تم چاند دن کے آغاز میں دیکھو تو روزہ افطار نہ کرو یہاں تک کہ دو سچے آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے کل شام چاند دیکھا ہے۔“
ابوبکر (نیشاپوری) فرماتے ہیں: اگر مؤمل نے اسے یاد رکھا ہے تو یہ غریب ہے، اور امام عبدالرحمن بن مہدی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
ابوبکر (نیشاپوری) فرماتے ہیں: اگر مؤمل نے اسے یاد رکھا ہے تو یہ غریب ہے، اور امام عبدالرحمن بن مہدی نے ان کی مخالفت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو أُمَيَّةَ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالُوا: ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بِخَانِقِينَ: " إِنَّ الْأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالْأَمْسِ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مُرْسَلًا بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابووائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس خانقین میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا کہ چاند ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے، لہٰذا جب تم چاند شروع دن میں دیکھو تو افطار نہ کرو حتیٰ کہ دو ایسے گواہ گواہی دیں، جنہوں نے کل چاند دیکھا ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ نَهَارًا قَبْلَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ فَأَفْطِرُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَمَا تَزُولُ الشَّمْسُ فَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَصُومُوا " هَكَذَا رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مُنْقَطِعًا، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
شباک، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کی طرف خط لکھا کہ ”جب تم دن میں چاند دیکھو، سورج ڈھلنے سے پہلے تیس دن پورے ہونے پر تو روزہ افطار کر دو اور جب تم سورج ڈھلنے کے بعد چاند دیکھو تو پھر افطار نہ کرو اور روزے سے رہو۔“
ابراہیم نخعی نے اسے اسی طرح منقطع روایت کیا ہے اور ابو وائل کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔
ابراہیم نخعی نے اسے اسی طرح منقطع روایت کیا ہے اور ابو وائل کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ أُنَاسًا رَأَوْا هِلَالَ الْفِطْرِ نَهَارًا، فَأَتَمَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ صِيَامَهُ إِلَى اللَّيْلِ، وَقَالَ: " لَا، حَتَّى يُرَى مِنْ حَيْثُ يُرَى بِاللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عید الفطر کا چاند دن میں دیکھا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا روزہ رات تک پورا کیا اور کہا کہ نہیں، جب تک وہاں سے دکھائی نہ دے جہاں سے رات کو دیکھا جاتا ہے۔
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " إِنَّ نَاسًا يُفْطِرُونَ إِذَا رَأَوَا الْهِلَالَ نَهَارًا، وَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ أَنْ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ لَيْلًا مِنْ حَيْثُ يُرَى "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: جب لوگ دن میں چاند دیکھتے ہیں تو افطار کر لیتے ہیں، یہ تمہارے لیے درست نہیں کہ تم افطار کرو حتیٰ کہ تم رات کو دیکھو جہاں سے دیکھا جاتا ہے۔