کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شعبان کے آخری دنوں (سرر) کے روزے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ: " صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَكَانَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا یا کسی آدمی سے فرمایا اور وہ سن رہے تھے: ”کیا تو نے اس مہینے کے آخر میں کوئی روزہ رکھا؟“ تو اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو روزہ افطار کرے گا تو اس کے عوض دو روزے رکھ لینا۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا؟ " قَالَ: لَا، يَعْنِي شَعْبَانَ قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، قَالَ: وَقَالَ ثَابِتٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
مہدی بن میمون نے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا: ”کیا تو نے اس مہینے کے آخر میں روزے رکھے ہیں؟“ اس نے عرض کیا: نہیں (یعنی شعبان میں)، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو روزہ ختم کرلے تو ایک دن یا دو دن کے روزے رکھنا۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ ⦗٣٥٥⦘ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِرَجُلٍ: " صُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے یا کسی دوسرے شخص سے فرمایا: ”کیا تو نے شعبان کے آخر میں روزے رکھے ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو افطار کرے تو دو دن کا روزہ رکھنا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْمُغِيرَةِ بْنِ فَرْوَةَ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ فِي النَّاسِ بِدَيْرِ مِسْحَلٍ الَّذِي عَلَى بَابِ حِمْصٍ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا قَدْ رَأَيْنَا الْهِلَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَأَنَا مُتَقَدِّمٌ بِالصِّيَامِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَفْعَلَهُ فَلْيَفْعَلْهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيُّ فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صُومُوا الشَّهْرَ وَسِرَّهُ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ الْوَلِيدُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ. قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ قَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ: سِرُّهُ أَوَّلُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَرُّهُ آخِرُهُ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَأَرَادَ بِهِ الْيَوْمَ أَوِ الْيَوْمَيْنِ اللَّذَيْنِ يَسْتَتِرُ فِيهِمَا الْقَمَرُ قَبْلَ يَوْمِ الشَّكِّ، أَوْ أَرَادَ بِهِ صِيَامَ آخِرِ الشَّهْرِ مَعَ يَوْمِ الشَّكِّ، إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ عَادَتَهُ فِي صَوْمِ آخِرِ كُلِّ شَهْرٍ وَقِيلَ أَرَادَ بِسِرِّهِ وَسَطَهُ وَسِرُّ كُلِّ شَيْءٍ جَوْفُهُ، فَعَلَى هَذَا أَرَادَ أَيَّامَ الْبِيضِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”اس مہینے کے روزے رکھو اور آخری دن میں بھی۔“
ولید کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو یعنی اوزاعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: اس کے سِرّ سے مراد اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ اور سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی کہا کرتے تھے کہ اس کا سِرّ اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: دوسروں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے کہ اس کا سِرّ اس کا آخری حصہ ہے، اور یہی صحیح ہے۔ اس سے مراد وہ ایک یا دو دن ہیں جن میں شک کے دن سے پہلے چاند چھپا رہتا ہے، یا اس سے مراد شک کے دن سمیت مہینے کے آخر کا روزہ ہے جب یہ ہر مہینے کے آخر میں روزہ رکھنے کی اس کی عادت کے موافق ہو۔ اور کہا گیا ہے کہ سِرّ سے مراد اس کا درمیانی حصہ ہے، کیونکہ ہر چیز کا سِرّ اس کا اندرونی حصہ ہوتا ہے، اس بنا پر اس سے مراد ایامِ بیض ہیں۔ واللہ اعلم۔
ولید کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو یعنی اوزاعی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: اس کے سِرّ سے مراد اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ اور سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی کہا کرتے تھے کہ اس کا سِرّ اس کا ابتدائی حصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: دوسروں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے کہ اس کا سِرّ اس کا آخری حصہ ہے، اور یہی صحیح ہے۔ اس سے مراد وہ ایک یا دو دن ہیں جن میں شک کے دن سے پہلے چاند چھپا رہتا ہے، یا اس سے مراد شک کے دن سمیت مہینے کے آخر کا روزہ ہے جب یہ ہر مہینے کے آخر میں روزہ رکھنے کی اس کی عادت کے موافق ہو۔ اور کہا گیا ہے کہ سِرّ سے مراد اس کا درمیانی حصہ ہے، کیونکہ ہر چیز کا سِرّ اس کا اندرونی حصہ ہوتا ہے، اس بنا پر اس سے مراد ایامِ بیض ہیں۔ واللہ اعلم۔