کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: علاء کی حدیث کی نسبت زیادہ صحیح روایات کے ذریعے اس معاملے (شعبان کے نصف کے بعد روزے) میں رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يُعَجَّلَ شَهْرُ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَأْتِي ذَلِكَ عَلَى صِيَامِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صرف اس سے منع فرمایا کہ رمضان کے مہینے کی جلدی کی جائے ایک یا دو دن کے روزے کے ساتھ، مگر جو شخص روزے رکھ رہا تھا اور یہ دن اس کے روزوں کے موافق آگیا۔“
حدیث نمبر: 7964
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا إِلَّا شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَرَوَاهُ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ "، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا " وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سال میں سے کسی مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے۔ سو آپ تمام شعبان کے روزے رکھتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو کسی مہینے میں زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے، یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ شعبان کے کم روزے چھوڑتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے آپ ﷺ کو کسی مہینے میں زیادہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شعبان کے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ پورا شعبان روزے رکھتے تھے، یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ شعبان کے کم روزے چھوڑتے بلکہ تمام شعبان کے روزے رکھتے۔
حدیث نمبر: 7965
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، ⦗٣٥٤⦘ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ شَهْرَيْنِ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ " لَفْظُ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ دو مہینوں کے روزے اکٹھے نہیں رکھا کرتے تھے سوائے شعبان اور رمضان کے۔ سفیان کی حدیث میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ دو مہینے متواتر روزے رکھتے، سوائے اس کے کہ آپ ﷺ شعبان کو رمضان سے ملاتے۔
حدیث نمبر: 7966
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارٍيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ، يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سال میں پورا مہینہ روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے کہ اس کو رمضان سے ملاتے تھے۔