کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کہنے والے کے اس قول کی کراہت کے متعلق جو مروی ہے کہ ”رمضان آیا اور رمضان گیا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، وَأَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامِغَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا رَمَضَانُ فَإِنَّ رَمَضَانَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَلَكِنْ قُولُوا شَهْرُ رَمَضَانَ " وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَازِنُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، وَأَبُو مَعْشَرٍ هُوَ نَجِيحٌ السِّنْدِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَكَانَ يَحْيَى الْقَطَّانُ لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رمضان رمضان نہ کہو، بیشک رمضان اللہ کے ناموں میں سے ہے، بلکہ تم رمضان کا مہینہ کہا کرو۔“
ابو معشر، نجیح سندی ہیں، انہیں یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحییٰ القطان ان سے روایت نہیں کرتے تھے جبکہ عبدالرحمن بن مہدی ان سے روایت کرتے تھے، واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابو معشر کے واسطے سے محمد بن کعب کا اپنا قول ہے اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
ابو معشر، نجیح سندی ہیں، انہیں یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحییٰ القطان ان سے روایت نہیں کرتے تھے جبکہ عبدالرحمن بن مہدی ان سے روایت کرتے تھے، واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابو معشر کے واسطے سے محمد بن کعب کا اپنا قول ہے اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ فِنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: " لَا تَقُولُوا رَمَضَانُ فَإِنَّ رَمَضَانَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَكِنْ قُولُوا: شَهْرُ رَمَضَانَ " وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَالطَّرِيقُ إِلَيْهِمَا ضَعِيفٌ، وَقَدِ احْتَجَّ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فِي جَوَازِ ذَلِكَ بِالْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم رمضان نہ کہا کرو کیونکہ رمضان اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، بلکہ تم رمضان کا مہینہ کہا کرو۔
یہ بات مجاہد اور حسن بصری رحمہما اللہ سے بھی مروی ہے، مگر ان تک سند ضعیف ہے، اور امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس (رمضان کہنے) کے جواز پر درج ذیل حدیث سے دلیل لی ہے۔
یہ بات مجاہد اور حسن بصری رحمہما اللہ سے بھی مروی ہے، مگر ان تک سند ضعیف ہے، اور امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس (رمضان کہنے) کے جواز پر درج ذیل حدیث سے دلیل لی ہے۔
الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: الْبُخَارِيُّ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ " وَقَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے“ اور یہ بھی فرمایا: «لَا تَقَدَّمُوا رَمَضَانَ» ”تم رمضان سے پہلے (روزے رکھ کر) پہل نہ کرو۔“