السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: لا يجب صوم بأصل الشرع غير صوم رمضان باب: اصلِ شریعت کے لحاظ سے رمضان کے روزوں کے علاوہ کوئی اور روزہ واجب نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا " فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ؟ فَقَالَ: " صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَتَطَوَّعَ شَيْئًا " فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ؟ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَاللهِ إِنْ صَدَقَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ.سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک پراگندہ بالوں والا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے خبر دیجیے کہ اللہ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں، مگر یہ کہ تو کچھ نوافل ادا کرنا چاہے۔“ پھر اس نے کہا: مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے کے روزے، ہاں اگر تو نفلی رکھنا چاہے۔“ پھر اس نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے زکات کیسے فرض کی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ضروری شعائر اسلام سے آگاہ کیا تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو عزت بخشی ہے! میں کوئی نفلی عبادت نہیں کروں گا اور فرائض میں کبھی کمی بھی نہیں کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا“ اور ”جنت میں داخل ہوا، اللہ کی قسم! اگر اس نے سچ کہا۔“