السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
باب: ما روي في كراهية قول القائل جاء رمضان وذهب رمضان باب: کہنے والے کے اس قول کی کراہت کے متعلق جو مروی ہے کہ ”رمضان آیا اور رمضان گیا“۔
حدیث نمبر: 7904
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، وَأَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامِغَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا رَمَضَانُ فَإِنَّ رَمَضَانَ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ وَلَكِنْ قُولُوا شَهْرُ رَمَضَانَ " وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخَازِنُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، وَأَبُو مَعْشَرٍ هُوَ نَجِيحٌ السِّنْدِيُّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَكَانَ يَحْيَى الْقَطَّانُ لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ مِنْ قَوْلِهِ وَهُوَ أَشْبَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رمضان رمضان نہ کہو، بیشک رمضان اللہ کے ناموں میں سے ہے، بلکہ تم رمضان کا مہینہ کہا کرو۔“
ابو معشر، نجیح سندی ہیں، انہیں یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور یحییٰ القطان ان سے روایت نہیں کرتے تھے جبکہ عبدالرحمن بن مہدی ان سے روایت کرتے تھے، واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابو معشر کے واسطے سے محمد بن کعب کا اپنا قول ہے اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔